<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امجد کا بلاگ</title>
	<atom:link href="http://amjid.urdunama.org/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://amjid.urdunama.org</link>
	<description>بے تُقی باتیں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 30 Mar 2011 07:16:22 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.5</generator>
		<item>
		<title>ممتاز علی قادری کا فعل</title>
		<link>http://amjid.urdunama.org/2011/01/%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d9%84/</link>
		<comments>http://amjid.urdunama.org/2011/01/%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d9%84/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 05 Jan 2011 19:48:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی معلومات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://amjid.urdunama.org/?p=1185</guid>
		<description><![CDATA[آج میں نے فیس بُک کھولی تو اِس لِنک پر ناموسِ رِسالت صلی اللہُ علیہِ پر بحث چل رہی تھی اِ س پر میں نے یہ جواب دِیا۔ محترمہ مجھے آپ کے اوپر موجود تمام بیانات پڑھ کر آپ پر افسوس بالکل نہیں ہوا ہے بلکہ مجھے افسوس ہوا ہے تو ان والدین پر جنہوں [...]


No related posts.

Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج میں نے فیس بُک کھولی تو <a href="http://www.facebook.com/photo.php?fbid=172486039454608&amp;set=a.159617314074814.25781.100000796388657&amp;ref=nf" target="_blank">اِس لِنک</a> پر ناموسِ رِسالت صلی اللہُ علیہِ پر بحث چل رہی تھی اِ س پر میں نے یہ جواب دِیا۔<br />
محترمہ مجھے آپ کے اوپر موجود تمام بیانات پڑھ کر آپ پر افسوس بالکل نہیں ہوا ہے بلکہ مجھے افسوس ہوا ہے تو ان والدین پر جنہوں نے آپ کی پرورش تو بہت اچھے طریقے سے کی لیکن افسوس انہوں نے آپ کی دینی تربیت پر بالکل بھی توجہ نہیں دی اگر&#8230; انہوں نے ذرا بھی توجہ دی ہوتی تو یہ سب آج آپ نا کہتی۔<br />
آئیے ! دیکھتے ہیں خود نبی انے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے والوں سے کیا سلوک کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے توہین رسالت پر کیا رویہ اختیار کیا، تابعین اور آئمہ نے کیا ردعمل ظاہر کیا اور گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سلوک کیا۔ فقہاء نے گستاخوں کے لیے کیا احکامات دےئے ۔ اس بارے میں ائمہ سلف کے فتاویٰ بھی پڑھیے پھر فیصلہ فرمائیے کہ ان حالات میں آج عالم اسلام کی کیا ذمہ داری ہے۔</p>
<p><span id="more-1185"></span><br />
جیسا کہ قرآن خود بیان کرتا ہے کہ ”جو نفرت ان کافروں کی زبانوں سے ظاہر ہے وہ تو تم کو معلوم ہے او ر جو بغض ان کے سینوں میں چھپا ہے وہ بہت زیادہ ہے“ ۔یہود و نصاریٰ شروع دن سے ہی شانِ اقدس ا میں نازیبا کلمات کہتے چلے آرہے ہیں ۔ کبھی یہودیہ عورتوں نے آپ ا کو گالیاں دیں۔ کبھی کافر مردوں نے گستاخانہ قصیدے کہے۔ کبھی آپ اکی ہجو میں اشعارپڑھے اور کبھی نازیباکلمات کہے۔(اُس زمانے میں شاعری کا دور دورہ تھا ، کسی کی ہجو کے لیے قصیدہ کہا جاتا تھا، آج کافروں نے توہین کا انداز بدل دیا ہے اور فلموں کارٹونوں کے ذریعے مذاق اڑایا جاتا ہے۔) تو نبی انے شان ِ نبوت میں گستاخی کرنے والے بعض مردوں اور عورتوں کو بعض مواقع پر قتل کروایا۔ کبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دے کر اور کبھی پورے پروگرام کے ساتھ روانہ کرکے۔ کبھی کسی صحابی نے حُبِ رسول امیں خود گستاخِ نبی کے جگر کو چیر دیا اور کبھی عزم کر لیا کہ خود زندہ رہوں گا یا گستاخِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کبھی نذر مان لی کہ فلاں گستاخ کو ضرور قتل کروں گا ۔ جو گستاخ مسلمانوں کی تلوار سے بچے رہے، انہیں اللہ جل شانہ نے عذابوں میں مبتلا کیا ۔ رسوائیوں کا شکار رہے ۔ قبر نے اپنے اندر رکھنے کے بجائے باہر پھینک دیا کہ عبرت کا نمونہ بن جائے۔<br />
”اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو ان کفر کے پیشواوئں کے ساتھ جنگ کرو۔“ (التوبہ، ۱۲)<br />
حافظ ابنِ کثیر اس آیت کے ضمن میں واضح حکم لگاتے ہیں: ” جو آنحضرت اکی شان میں بدگوئی کرے ، کوئی طعن یا عیب لگائے ، وہ قتل کیا جائے گا“۔ (تفسیر ابنِ کثیر، ج۲، ص۳۷)</p>
<p>عصما بنت مروان کا قتل (۲۵رمضان سن ۲ہجری)<br />
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خطمہ قبیلے کی ایک عورت نے ہجو کی ۔نبی انے فرمایا کہ اس عورت سے کون نبٹے گا۔ عمیر بن عدی نے جا کر اسے قتل کر دیا تو نبی ا نے فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں یعنی اس عورت کا خون رائیگان ہے اور اس میں کوئی دو آپس میں نہ ٹکرائیں۔ (الصارم المسلول۔ ۱۲۹)<br />
بعض مورخین نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے عصما بنت مروان بنی عمیر بن زید کے خاندان سے تھی ،وہ یزید بن زید بن حصن الخطیمی کی بیوی تھی، یہ رسول ا کو ایذاء اور تکلیف دیا کرتی تھی ۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی اکے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی۔ عمیر بن عدی الخطمی ، جن کی آنکھیں اس قدر کمزور تھیں کہ جہاد میں نہیں جا سکتے تھے ۔ ان کو جب اس عورت کی باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا تو کہنے لگے کہ اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول ا کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کردوں گا۔ رسول ا اس وقت بدر میں تھے۔ جب آپ ا غزوہ بدر سے تشریف لائے تو عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے تو اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے۔ ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ عمیررضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اس عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیررضی اللہ عنہ نے بچے کو اس سے الگ کر دیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اس زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہوگئی ۔پھر نماز ِ فجر رسول ا کے ساتھ ادا کی۔ جب نبی ا نماز سے فارغ ہوئے تو عمیررضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے؟ کہنے لگے :جی ہاں! میرے ماں باپ آپ ا پر قربان ہوں ،اے اللہ کے رسول ا۔ عمیررضی اللہ عنہ کو اس بات سے ذرا ڈر سا لگا کہ کہیں میں نے رسول اللہا کی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا۔ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ا! کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے؟ فرمایا کہ دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں ۔پس یہ کلمہ رسول اللہ ا سے پہلی مرتبہ سنا گیا۔ عمیررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ا نے اپنے اردگرد دیکھا تو فرمایا تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو، جس نے اللہ اور اس کے رسول ا کی غیبی مدد کی ہے، تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:” لو یہنابیناتو ہم سے بازی لے گیا، اس نے ساری رات عبادت میں گزاری۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ﷺنے فرمایا : اسے نابینا نہ کہو،یہ بینا ہے۔ (الصارم المسلول ،ص۱۳۰)<br />
ابو عفک یہودی کا قتل (شوال ۲ہجری)<br />
ابن تیمیہ مورخین کے حوالے سے شاتمِ رسول ابو عفک یہودی کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ بنی عمرو بن عوف کا ایک شیخ جسے ابو عفک کہتے تھے، وہ ۱۲۰ سال کا بوڑھا آدمی تھا۔جس وقت رسول ا مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ بوڑھا لوگوں کو آپ اکی عداوت پر بھڑکاتا تھا اور مسلمان نہیں ہوا تھا، جس وقت رسول اللہ ا بدر کی طرف نکلے اور غزوئہ بدر میں آپ اکو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی تو اس شخص نے حسد کرنا شروع کردیا اور بغاوت اور سرکشی پر اتر آیا ۔ رسول ا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مذمت میں ہجو کرتے ہوئے ایک قصیدہ کہا ۔اس قصیدے کو سن کر عاشقِ رسول ا سالم بن عمیررضی اللہ عنہ کی وہی حالت ہوئی جو ایک عاشق رسول کی ہونی چاہئے اور انھوں نے نذر مانی کہ میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے خود جان دے دوں گا۔ پس رسول اکی اجازت کی ضرورت تھی، جو مل گئی۔ سالم رضی اللہ عنہ موقع کی تلاش میں تھے، موسمِ گرما کی ایک رات ابو عفک قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سویا ہوا تھا۔ سالم بن عمیررضی اللہ عنہ اس کی طرف آئے اور اس کے جگر پر تلوار رکھ دی، جس سے وہ بستر پر چیخنے لگا مگر اس مردود کا کام تمام کردیا۔ (الصارم المسلول ،ص ۱۳۸)<br />
انس بن زنیم الدیلمی کی گستاخی<br />
انس بن زنیم الدیلمی نے رسول اللہا کی ہجو کی۔ اس کو قبیلہ خذاعیہ کے ایک بچے نے سن لیا، اس نے انس پر حملہ کردیا۔ انس نے اپنا زخم اپنی قوم کو آکر دکھایا ۔ واقدی نے لکھا ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی ”قبیلہ خزاعیہ“ کے چالیس سواروں کو لے کر رسول اللہ اکے پاس مدد طلب کرنے گیا ۔انھوں نے آکر اس واقعہ کا تذکرہ کیا جو انھیں پیش آیا تھا۔ جب قافلے والے فارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: یا رسول اللہا!انس بن زنیم الدیلمی نے آپ کی ہجو کی ہے تو رسول ا نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ ( الصارم المسلول، ص۱۳۹)<br />
ایک گستاخِ رسول عورت<br />
ایک عورت رسول ا کو گالیاں دیا کرتی تھی ۔ آپ ا نے فرمایا:<br />
”من یکفینی عدوی“<br />
میری دشمن کی خبر کون لے گا؟ تو خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے اس عورت کو قتل کردیا ۔ (الصارم المسلول،ص ۱۶۳)<br />
مشرک گستاخ رسول اکا قتل<br />
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں<br />
مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول ا کو گالی دی تو رسول ا نے فرمایا: میرے اس دشمن کی خبر کون لے گا تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اورعرض کرنے لگے: یا رسول اللہ ا میں حاضر ہوں ۔ حضرت زبیررضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا تو رسول ا نے اس کا سامان حضرت زبیررضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ (الصارم المسلول،ص ۱۷۷</p>
<p>اب ذرا آتے ہیں اس بات کی طرف کہ سلمان تاثیر کیوں واجب القتل تھا۔ تو محترمہ جتنا مجرم گستاخِ رسول ہے اتنا ہی قصوروار اس کا حمایتی بھی ہے، سلمان تاثیر نے نا صرف آسیہ کی حمایت کی بلکہ اس نے تو اس قانون کو بھی کالا قرار دے دیا، اگر قانون کے تحت کچھ لوگ غلط فائدہ اٹھا رہےہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ قانون کالا ہے اور گستاخِ رسول کو کھلا چھوڑ دیا جانا چاہئے، اگر قانون میں سقم ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غلطی ہے نا کہ اس گستاخ کے لئے کوئی حمایت کا پہلو۔<br />
امریکا بہادر اور اس کے حواری اس سے پریشان ہیں کہ اگر اس ملک میں حدود آرڈی نینس باقی اور موٴثر رہا تو زناکاری اور بدکاری کا جنازہ نکل جائے گا ،اور جس معاشرہ میں زناکاری و بدکاری نہ ہوگی، وہ کثرتِ اموات، کثرت ِامراض، معاشی تنگ دستی اور جنگ و &#8230;جدل سے بچ کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا، اس لئے پاکستانی معاشرہ اور پاکستانی مسلمانوں کو اس غلاظت کی دلدل میں دھکیلنے کے لئے سب سے پہلے حدود آرڈی نینس کے خلاف اربوں ڈالر کے مصارف سے” کچھ سوچئے“ کی میڈیائی مہم چلائی گئی اور پوری قوم کو ذہنی طور پر حدود آرڈی نینس کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا گیا، زنا بالجبر اور زنا بالرضا کی غلیظ ابحاث اٹھائی گئیں، خواتین کو مظلوم باور کرایا گیا، اور حدود آرڈی نینس، جو زنا کے سدباب کی ایک ادنیٰ سی کوشش تھی، اس کو ظلم و تشدد باور کرایا گیا، تاآنکہ حدود آرڈی نینس کو کالعدم قرار دینے کے لئے متبادل حقوق نسواں بل لاکر زنا کاری کو تحفظ فراہم کیا گیا، صرف یہی نہیں بلکہ ایسے جوڑے جو بدکاری و زناکاری کے مرتکب تھے، انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے بیرون ملک شہریت دے کر اس گھناؤنے جرم اور مجرمین کی حوصلہ افزائی کی گئی۔<br />
اس کے بعد ان کا اگلا ہدف توہین رسالت آرڈی نینس تھا، جو ایسے بدنہاد اور موذیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا، جو اپنے آقاوٴں کے اشاروں پر مقدس شخصیات اور خصوصاً آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھونکتے تھے۔ بلاشبہ قانون توہین رسالت حضرات انبیأ کرام اورمقدس شخصیات کے خلاف بھونکنے والی ایسی زبانوں کو روکنے بلکہ انہیں لگام دینے کا موٴثر ہتھیار تھا۔<br />
لہٰذا اس قانون کو غیر موٴثر بنانے کی خاطر جان بوجھ کر ایسے موذیوں کودریدہ دہنی پرآمادہ کیاجانے لگا اور جہاں کہیں ایسے بدنہاد اور موذی، اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات کے خلاف دریدہ دہنی کے مرتکب ہوئے اور مسلمانوں نے ان کے خلاف احتجاج کیا، پیشگی طے شدہ منصوبے کے تحت اس کو فساد کی شکل دی گئی اور باقاعدہ قتل وغارت اورجلاوٴ گھراوٴ کے ذریعے میدان کارزار اور جنگ و جدل کا بازار گرم کیا گیا، دنگا فساد برپا کرنے کے لئے جانبین پر حملے کرائے گئے، چنانچہ ان موذیوں اور گستاخوں کی صفوں میں گھس کر مسلمانوں کو اور مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر ان موذیوں کو مارا گیا، ان کو زخمی کیا گیا، ان کو قتل کیا گیا، بلکہ ہر دو جانب سے فائرنگ کا ڈھونگ رچاکر مسلمانوں کو ظالم اور اعدائے اسلام کو مظلوم باور کراتے ہوئے اس کو قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کے کھاتے میں ڈالاگیا، اور اپنے زر خریدغلاموں کے ذریعے پُرزور مطالبے اور بیان دلائے گئے کہ چونکہ یہ سب کچھ قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کی وجہ سے ہوا ہے ،لہٰذا قانون توہین رسالت کوختم ہونا چاہئے۔<br />
اور اب تو نوبت بایں جارسید کہ اگر کوئی اللہ کا بندہ ان باغیانِ رسالت اور موذیوں کی دریدہ دہنی کے خلاف زبان کھولے تو اس کی جان و مال اور عزت و آبرو کے لالے پڑجاتے ہیں، دیکھا جائے تو یہ سب کچھ اس سازش اور مہم کا حصہ ہے جس میں طے کیا جا چکاہے کہ یہ قانون ہر حال میں ختم ہونا چاہئے۔چنانچہ پاکستان بھرمیں جہاں جہاں عیسائی مسلم اورقادیانی مسلم فسادات کی خبریں آرہی ہیں،ان کے پیچھے یہی سازش کارفرماہے۔</p>


<p>No related posts.</p>
<p>Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.</p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://amjid.urdunama.org/2011/01/%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کمپیوٹر ٹپس</title>
		<link>http://amjid.urdunama.org/2010/12/%da%a9%d9%85%d9%be%db%8c%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%b9%d9%be%d8%b3/</link>
		<comments>http://amjid.urdunama.org/2010/12/%da%a9%d9%85%d9%be%db%8c%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%b9%d9%be%d8%b3/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 10 Dec 2010 12:23:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر و انٹرنیٹ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://amjid.urdunama.org/?p=1182</guid>
		<description><![CDATA[No related posts. Related posts brought to you by Yet Another Related Posts Plugin.


No related posts.

Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://img258.imageshack.us/img258/6552/308veqs1.gif" alt="" /><br />
<img src="http://img408.imageshack.us/img408/6101/dw6yp41.gif" alt="" /></p>


<p>No related posts.</p>
<p>Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.</p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://amjid.urdunama.org/2010/12/%da%a9%d9%85%d9%be%db%8c%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%b9%d9%be%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>احمد فراز&#8230;شاعری سے ایس ایم ایس تک !!!</title>
		<link>http://amjid.urdunama.org/2010/11/%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%aa%da%a9/</link>
		<comments>http://amjid.urdunama.org/2010/11/%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%aa%da%a9/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 25 Nov 2010 18:47:10 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://amjid.urdunama.org/?p=1178</guid>
		<description><![CDATA[انگریزی زبان کے عظیم ادیب چارلس ڈکنس نے اپنی مشہور ناول ’’ٹیل آف ٹو سٹیز‘‘ کی ابتدا کچھ اس طرح کی ہے کہ: ’’وہ وقت بہت بہترین تھا؛ وہ وقت بہت بدترین تھا؛وہ دور داناہی کا تھا؛ وہ دور نادانی کا تھا؛ وہ عہد یقین تھا؛ وہ بے یقینی کا عرصہ تھا؛ وہ روشنی کا [...]


No related posts.

Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>انگریزی زبان کے عظیم ادیب چارلس ڈکنس نے اپنی مشہور ناول ’’ٹیل آف ٹو سٹیز‘‘ کی ابتدا کچھ اس طرح کی ہے کہ:<br />
’’وہ وقت بہت بہترین تھا؛ وہ وقت بہت بدترین تھا؛وہ دور داناہی کا تھا؛ وہ دور نادانی کا تھا؛ وہ عہد یقین تھا؛ وہ بے یقینی کا عرصہ تھا؛ وہ روشنی کا موسم تھا؛ وہ تاریکی کا موسم تھا؛وہ امید کا موسم بہار؛ وہ مایوسی کا موسم خزاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘<br />
ایسی ہی کیفیت فیض کے اس نظم میں بھی ہے؛ جس میں اس نے بتایا ہے کہ :<br />
’’یہ دھوپ کنارہ شام ڈھلے<br />
ملتے ہیں دونوں وقت جہاں‘‘</p>
<p><span id="more-1178"></span></p>
<p>کچھ اس انداز سے دو متضاد موسم ایک دوسرے کے ساتھ ان دو ہونٹوں کی طرح ملے تھے جو غصے میں ایک دوسرے کے ساتھ بھنچ کر لہولہاں نظر آتے ہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب پرویز مشرف کے خلاف اس ملک کی فضاؤں سے یہ صدا بلند ہو رہی تھی کہ:<br />
’’اب تو اس دیس کے بچے بھی دعا کرتے ہیں<br />
حاکمِ وقت کو مسند سے اتارا جائے‘‘<br />
اسی دور میں اس ملک کے نامور شاعر نجی چینلزکے ’’بریکنگ نیوز‘ ‘ والے بے احتیاط تیروں سے زخمی ہوئے مگر اس نے اپنی سانسوں کو تب تک سنبھالے رکھا جب تک ایوان ِ صدر سے وہ شخص ہوا جس کی وجہہ سے اس دیس میں تیز ہواؤں میںگھٹن کا مقدار بڑھتا جا رہا تھا۔<br />
اس میں کوئی شک نہیں کہ احمد فراز کے انتقال کی خبر ان شعروں کے ساتھ اڑی تھی جو ایس ایم ایسز کے ذریعے ایک موبائل سے دوسرے موبائل تک منتقل ہوتے رہے۔<br />
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ آج اس کے انتقال کو کوئی آٹھ ماہ ہونے کو ہیں مگر موبائل اونرز کے لیی وہ دن حیرت انگیز ہوتا ہے جب ان کے ’’ان باکس‘‘ میں ’’فراز‘‘ کا نام نہیں آتا۔<br />
ایس ایم ایس؛ جس کو میں دورِ حاظر کا سب سے بڑا میڈیا سمجھتا ہوں اس میں اتنی پزیرائی کسی کو حاصل نہیں ہوئی جتنی احمد فراز کو!<br />
اس میں کوئی شک نہیں کہ احمد فراز کو ان کی زندگی میں بہت شہرت حاصل ہوئی تھی۔ اتنی شہرت کہ انہوں نے ایک شعر میں لکھا تھا کہ:<br />
’’اور تمہیں کتنی محبتیں چاہئییں فراز<br />
ماؤں نے بچوں پر تیرا نام رکھ دیا‘‘<br />
لیکن کس کو پتہ تھا کہ وہ محبت کچھ وقت کے بعد ایک مذاق بن جائے گی۔وہ فراز جو محبت کے حوالے سے اس ملک کا سب سے بڑا شعری حوالہ بن کر ابھرا آج وہ کچھ شائستہ اور کچھ ناشائستہ قسم کی مذاق بن گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مرحوم کو یاد کیا جائے تو اس کی روح کو مسرت ہوتی ہے مگر ایس ایم ایس سروس میں احمد فراز کو جس طرح یاد کیا جاتا رہا؛ اس سے تو اس کی روح پر ایک اذیت کی کیفیت اترتی ہوگی۔ کوئی وقت تھا کہ جن لوگوں کا نام ’’فراز‘‘ ہے؛ وہ فخر محسوس کرتے تھے مگر اب ’’فراز‘‘ فخر کا نہیں بلکہ مذاق بن گیا ہے۔۔<br />
اب ایسی کوئی مذاق شاید ہی بچی ہو؛ جو فراز کے حوالے سے نہیں کی گئی ہے۔اس مذاق کے سلسلے کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ اس سوال کا جواب تو بہت تحقیق طلب معاملہ ہے؛ مگر جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ پہلے ایس ایم ایس پر فراز کے رومانوی اشعار گردش کرتے رہے اور پھر لوگوں نے فراز کے نام اپنے بے کار اشعار پھیلانے شروع کیی۔ ایسے اشعار جن میں نہ کوئی وزن ہوتا تھا اور نہ کوئی ترنم؛ نہ کوئی پیغام اور نہ کوئی تصور! ایسے اشعار فراز کے حوالے سے پورے ملک میں پھیلنا شروع ہوئے اور ایک دن کسی من چلے کے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ فراز کو چین بھیجا جائے اور اس نے چینی لہجے میں فراز کا نام ڈال کر لوگوں کو بتایا کہ فراز چینی اولمپک میں پہنچ گیا ہے۔ اس طرح فراز کے حوالے سے محبت کے پیغامات کا سلسلہ ختم ہوا اور مذاق شروع ہوگیا۔<br />
فراز کے حوالے سے لڑکیاں اپنے اںداز سے مذاق کرتی رہیں اور لڑکے اپنے انداز سے!<br />
ایک لڑکی نے اپنی دوست کو فراز کے حوالے سے یہ شکایت ایس ایم ایس کی کہ:<br />
’’میں اسے خود بھی بھولنا چاہتی ہوں ’’فراز‘‘<br />
مگر امی صبح کو دس بادام کھلا دیتی ہے‘‘<br />
اور لڑکے تو لڑکے ہیں۔ ان کی مذاق کا انداز ااکثر اوقات ناقابلِ اشاعت ہوا کرتا ہے مگر تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے جب وہ فراز کے حوالے سے کوئی مذاق کرتے ہیں تو یہی لکھتے ہیں کہ:<br />
’’اس گلی اس وجہہ سے جانا چھوڑ دیا فراز<br />
وہ کمینے نوکیا گیارہ سو بھی چھین لیتے ہیں‘‘<br />
اس طرح آوارہ مزاجوں نے مشکل سے کوئی ایسی بات چھوڑی ہے؛ جس میں انہوں نے فراز کے نام کو خوار نہ کیا ہو!<br />
اور آوارہ مزاج نوجوانوں کی بات الگ ہے مگر ہمارے پاس تو ایسے سنجیدہ دوستوں کے میسیجز بھی آئے ہیں جن میں فراز کے حوالے سے ’’ساحلِ سمندر‘‘ سے لیکر ’’آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پہ ہنسی‘‘ والی باتیں بھی بیان کی ہوئی ہیں۔<br />
لیکن کچھ مزاحیہ مسیجز سے اس بات کا پتہ بھی چلتا ہے کہ ہمارے نوجوان کس قدر تخلیقی حس ِ مزاح کے مالک ہیں۔<br />
مثال کی طور پر جس نے احمد فراز کے حوالے سے یہ شعری میسیج بنایا؛ جس کا عنوان تھا :<br />
’’اب فراز وزیرستان میں‘‘<br />
اور شعر تھا<br />
’’دغا رپیٹر زماں فائر د بارہ بور فراز<br />
لقا دشمن دغا ’’ڈز ڈز‘‘ ولہ وئی وئی‘‘<br />
کیا فراز نے کبھی سوچا بھی ہوگا کہ اس کانام اس طرح سے مذاق کی علامت بن جائے گا؟<br />
فراز کے حوالے سے ایک مزاحیہ شعر میں عجیب غریب آوازیں لکھ کر آخر میں یہ بتایا گیا کہ ’’آج فراز کی طبیعت خراب ہے‘‘<br />
اور ایک شعر میں آوازیں بھی جانی پہچانی نہیں تھیں۔ یعنی لکھا ہوا آیا تھا کہ:<br />
’’گمن کہ کرکپپ؛ تمن گمن تمپ جھٹک اس بن کو فراز<br />
نمکھابٹخ ببتا بر جھمٹک دغم جدلم جاناں جاناں‘‘<br />
اور نیچے کی عبار ت میں بتایا گیا تھا کہ’’بھاگو فراز پاگل ہو گیا ہے‘‘<br />
فراز تو کیا کوئی سا بھی شاعر اپنے حوالے اس قسم کا سلوک سوچ کر شاعری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیی ترک کر سکتا ہے۔ فراز کے وہم گمان میں بھی اپنے ساتھ ہونے والے اس سلوک کی جھلک تک نہ آئی ہوگی۔ اس نے اپنے حوالے سے بدتر سے بدتر امکانات پر غور کیا ہوگا مگر اس کے ذہن یہ نہیں آیا ہوگا کہ موت کے بعد اس کے ساتھ یہ سب کچھ ہوگا!مگر اب یہ کچھ ہو رہاہے اور عوامی سطح پر ہونے کی وجہہ سے اسے کسی طرح روکا بھی نہیں جا سکتا۔اور نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ اسی طرح کب تک چلتا رہے گا؟<br />
اس حوالے سے اب تو فراز کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ کسی نے فراز کی روح کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:<br />
’’ہم تو اس قبر میں بھی سکوں میسر نہیں فراز<br />
روز آکر کہتے ہیں فرشتے کہ استاد آج کوئی نیا شعر ہوجائے‘‘<br />
جس قسم کے مزاحیہ شعر احمد فراز سے منسوب کرکے موبائل نیٹ ورک کے ذریعے پھیلائے جا رہے ہیں؛ وہ شعر فراز کی روح پر تشدد ہیں۔ مگر وہی بات کہ انہیں روکنا ممکن نہیں۔<br />
فراز کے نام سے اس قسم کے سلوک پر میں سوچ رہا ہوں کہ پاکستان میں صرف وہی ایک شاعر نہیں پھر اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ شاید اس کا سبب یہی تھا کہ اس کی شاعری بجائے خود ایک مقصد بننے کے ایک ذریعہ بن گئی تھی؛ نوجوان لڑکیوں میں مقبولیت کا! میں نے یہ بات اس کے حوالے سے پہلے بھی لکھی ہے کہ اس نے اپنی شاعری کو حسین مچھلیاں پکڑنے کے لیی ایک جال کے طور پر استعمال کیا۔ اگر اس نے اپنے فن کی قدر جانی ہوتی اوراگر اس نے اپنے فن کو شعوری فرض میں استعمال کیا ہوتا تو شاید اس کے ساتھ اس قسم کا سلوک نہیں ہوتا۔پھر شاید اس کے محبتوں کے تصورات اس طرح مذاق نہ بنتے۔<br />
فراز نے اپنے فن کے غرور میں محبت جیسے عظیم جذبے جو اپنے ہرجائی مزاج کے حوالے سے ایک مذاق بنا دیا اور تاریخ کے منصف نے اس کی محبت بھری شاعری کو دلوں کے گلدانوں میں محفوظ کرنے کے بجائے لطیفوں کا لہجہ قرار بھی دیا اور اس لہجے کو عام بھی کر دیا۔<br />
تاریخ فراز کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہے؛ اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی کہ’’ہم اہلِ قلم کیا ہیں</p>


<p>No related posts.</p>
<p>Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.</p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://amjid.urdunama.org/2010/11/%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%aa%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں</title>
		<link>http://amjid.urdunama.org/2010/11/%da%a9%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%a7%d8%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
		<comments>http://amjid.urdunama.org/2010/11/%da%a9%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%a7%d8%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 25 Nov 2010 18:40:20 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرق]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://amjid.urdunama.org/?p=1175</guid>
		<description><![CDATA[تحریر : محمودالحق انسانی زندگی کے ادوار قوس و قزح کے رنگوں کی مانند ترتیب میں ایک کے بعد ایک دوسرا رنگ دکھاتا ہے ۔زندگی کی ترتیب بھی قوس و قزح کے رنگو ں کی طرح بدلتی نہیں ۔ بچپن ، لڑکپن ، ادھیڑ پن اور بڑھاپا۔ ہر انسان میں زندگی کے ادوار اسی ترتیب [...]


No related posts.

Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>تحریر : محمودالحق</p>
<p>انسانی زندگی کے ادوار قوس و قزح کے رنگوں کی مانند ترتیب میں ایک کے بعد ایک دوسرا رنگ دکھاتا ہے ۔زندگی کی ترتیب بھی قوس و قزح کے رنگو ں کی طرح بدلتی نہیں ۔ بچپن ، لڑکپن ، ادھیڑ پن اور بڑھاپا۔ ہر انسان میں زندگی کے ادوار اسی ترتیب میں ہیں ۔ ہر رنگ کی اپنی جاذبیت اور خوبصورتی رکھتا ۔ بڑھاپا جوانی میں اچھا نہیں لگتا ۔ تو جوانی میں بچپنا بھی اچھا نہیں لگتا ۔ وقت سے پہلے شعور کا ادراک بے باک پن دیتا ہے ۔کھانا دیگوں میں تیار ، پلیٹ میں کھایا تو پانی سے بہایا جاتا ہے ۔دودھ کے دانت ٹوٹ جائیں تو نئے طاقت بھر لاتے ہیں ۔اگر طاقت کے ٹوٹ جائیں تو کمزوری میں چھپاتے ہیں ۔ زندگی میں رنگ رلیاں ہیں مگر رنگ رلیوں میں زندگی کے رنگ نہیں ۔انسان کے ادوار سوچ کی تبدیلی کی صورت میں نمایا ں ہوتے ہیں ۔ جو اس کی زندگی کو الگ زاوئے سے دکھاتے ہیں ۔زندگی میں سوچ میں پیدا ہوتے کیونکر کے سوال رفتہ رفتہ بدلتے جاتے ہیں ۔ جو ں جوں حالات بدلتے ہیں ایک نیا کیونکر پھر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے ۔سالوں ایک سوال کے جواب پانے میں گزر جاتے ہیں ۔<br />
علامہ محمد اقبال کی زندگی کے ادوار ان کی شاعری کے ادوار سے منسلک نظر آتے ہیں ۔سیاسی اور معاشرتی ادوار میں تغیر و تبدل سے ان کے افکار میں بھی یہ رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔</p>
<p><span id="more-1175"></span></p>
<p>شاعری کا پہلا دور 1905 تک</p>
<p>ان کی شاعری کا پہلا دور 1905 تک بیان کردہ کلام پر مبنی ہے جب کہ ہندوستان میں 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی رنگون نظر بندی کے بعد ہندوستان کی سیاسی فضا قدرے غیر سیاسی رہی ۔محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس مسلمانوں کی تعلیمی تحریک کا شعور بیدار کرنے میں عملی لحاظ سے فعال تھی ۔ یہاں علامہ صاحب کی شاعری کا روائتی انداز بھی کچھ یوں تھا ۔<br />
تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہيں<br />
اے گل رنگيں ترے پہلو ميں شايد دل نہيں<br />
زيب محفل ہے ، شريک شورش محفل نہيں<br />
يہ فراغت بزم ہستی ميں مجھے حاصل نہيں<br />
عہد طفلی کو بھی اشعار میں قلمبند کر دیا ۔<br />
تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے<br />
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے<br />
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں ميرے ليے<br />
حرف بے مطلب تھی خود ميری زباں ميرے ليے</p>
<p>علامہ صاحب سے پہلے اردو شاعری کا انداز شاہانہ تھا ۔ شاہی محلوں میں شاعروں کی سرپرستی کی جاتی ۔تعریف و تحسین سے پزیرائی کی جاتی اور واہ واہ سے داد دی جاتی ۔ مگراردو شاعری قوم کی تربیت کے عنصر سے محروم تھی ۔صرف ایک شاعر مرزا اسد اللہ غالب اس زبوں حالی کو اپنے اشعار میں بیان کر گیا ۔ جن کے بارے میں علامہ صاحب نے ایک اچھوتے انداز بیان میں خراج تحسین پیش کیا کہ لطف گویائی میں غالب کی ہمسری ممکن نہیں ۔<br />
فکر انساں پر تری ہستی سے يہ روشن ہوا<br />
ہے پر مرغ تخيل کی رسائی تا کجا<br />
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پيکر ترا<br />
زيب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا<br />
نطق کو سو ناز ہيں تيرے لب اعجاز پر<br />
محو حيرت ہے ثريا رفعت پرواز پر<br />
لطف گويائی ميں تيری ہمسری ممکن نہيں<br />
ہو تخيل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشيں</p>
<p>اس زمانہ میں انہوں نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مکالماتی بیان مثلاً مکڑا اور مکھی ، پہاڑ اور گلہری ، گائے اور بکری کو بھی نہایت خوبصورت پیرائے میں تخیل کا جز بنا دیا ۔کبھی بچے کی دعا کہہ گئے۔جو ہر سکول کے بچے کی زبان پر ہے ۔<br />
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا ميری<br />
زندگی شمع کی صورت ہو خدايا ميری</p>
<p>کبھی ماں کا خواب بیان کر گئے ۔پرندے کی فریاد تو کبھی شمع اور پروانہ کی کہانی ان کے قلم سے بیان ہوتی رہی ۔انسان اور بزم قدرت کو انہوں نے اپنی تخیل فکر سے شاعری میں ڈھال دیا ۔<br />
صبح خورشيد درخشاں کو جو ديکھا ميں نے<br />
بزم معمورہ ہستی سے يہ پوچھا ميں نے<br />
صبح اک گيت سراپا ہے تری سطوت کا<br />
زير خورشيد نشاں تک بھی نہيں ظلمت کا<br />
ميں بھی آباد ہوں اس نور کی بستی ميں مگر<br />
جل گيا پھر مری تقدير کا اختر کيونکر؟<br />
نور سے دور ہوں ظلمت ميں گرفتار ہوں ميں<br />
کيوں سيہ روز ، سيہ بخت ، سيہ کار ہوں ميں؟</p>
<p>شاعری کا یہ دور علامہ صاحب کی قدرت سے وابستگی کا نقطہ آغاز تھا ۔رخصت اے بزم جہاں ، چاند ، سرگزشتہ آدم ، نالاں ء فراق اور تصویر درد کا اظہار خوبصورت انداز میں کیا ۔اسی انسانیت کے ناطے ترانہء ہندی لکھا ۔ جو آج بھی ہندوستان کی فضاؤں میں گونجتا ہے ۔<br />
ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستان ہمارا<br />
اپنی شاعری کے بالکل ابتدائی زمانہ میں اقبال کی توجہ غزل گوئی کی جانب تھی اور ان غزلوں میں رسمی اور روایتی مضامین ہی باندھے جاتے تھے۔علامہ صاحب کا یہی دور ہے جب انہوں نے مخصوص روائتی شاعرانہ انداز میں غزلیات لکھیں ۔<br />
مانا کہ تيری ديد کے قابل نہيں ہوں ميں<br />
تو ميرا شوق ديکھ، مرا انتظار ديکھ</p>
<p>اس دور کی یادگار کے طور وہ مشہور غزل بھی ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں۔<br />
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی<br />
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیاتھی<br />
تمہارے پیامی نے سب راز کھولا<br />
خطا اس میں بندے کی سرکار کیاتھی<br />
لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی جستجو تلاش میں سرگرداں تھے ۔اور دل کی اصل کیفیت کی طرف رغبت بار بار جا رہی تھی۔اس لئے تو لکھتے ہیں ۔<br />
جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں<br />
وہ نکلے ميرے ظلمت خانہ دل کے مکينوں ميں<br />
حقيقت اپنی آنکھوں پر نماياں جب ہوئی اپنی<br />
مکاں نکلا ہمارے خانہ دل کے مکينوں ميں<br />
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقيروں کی<br />
نہيں ملتا يہ گوہر بادشاہوں کے خزينوں ميں</p>
<p>شاعری کا دوسرا دور 1905 سے 1908 تک</p>
<p>ان کی شاعری کا دوسرا دور 1905 سے 1908 تک ہے ۔ جو انہوں نے یورپ میں اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر گزارا ۔اور مغربی دنیا کو گہری مطالعاتی نظر سے کریدا ۔ اس دور کی شاعری میں یورپ کے مشاہدات کا عکس واضح نظر آتا ہےاور دوسری طرف ہندوستان سیاسی و معاشرتی لحاظ سے کن راہوں پر چل رہا تھا کا مطالعہ بھی بہت ضروری ہے ۔ 1905 میں تقسیم بنگال ہوئی ۔ کانگریس اور ہندوؤں کا مخالفانہ رد عمل جس کے نتیجہ میں 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام اور مسلمانوں میں سیاسی تحفظ کے شعور کی بیداری کا دور دیکھنے میں آتا ہے ۔مسلمانوں کی تحریک میں مطالبات حقوق میں شدت اور تقاضا سے اجتناب برتا گیا ۔بلکہ مفاہمتی انداز اپنایا گیا ۔ضد کی بنیا د پر سیاسی تنظیم کی تشکیل نو نہیں کی گئی ۔اور علامہ صاحب کی شاعری کا یہ دور بھی مسلمانوں کے اندر اس تحریک کو پیدا کرنے کے لئے شدت کا اظہار نہیں کرتا ۔ لیکن وہ ملک کی نجات مشرقی افکار و نظریات میں پاتے تھے ۔ ہم کلامی میں علامہ صاحب میں رومانیت کاپہلو بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یہی وہ دور ہے جب ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوا اور ان کی شاعری میں پیغامیہ رنگ دیکھنے میں آتا ہے ۔مغربی تہذیب بےزاری کا اظہار و اشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔<br />
دیار ِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے<br />
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زر اب کم عیار ہوگا<br />
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی<br />
جو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپا ئیدار ہوگا</p>
<p>مغربی معاشرے پر کچھ ایسے بھی روشنی ڈالی ۔<br />
عروس شب کی زلفيں تھيں ابھی نا آشنا خم سے<br />
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے<br />
تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکيزگی پائی<br />
حرارت لی نفسہائے مسيح ابن مريم سے</p>
<p>ان کے اظہار خیال کا یہ انداز بھی نرالا ہے ۔<br />
کہيں سامان مسرت، کہيں ساز غم ہے<br />
کہيں گوہر ہے ، کہيں اشک ، کہيں شبنم ہے</p>
<p>لیکن رومانیت کے اظہار میں ان کی عشق بیان کی صفت اسی روش پرتھی جو دل کی کیفیت پر بھاری تھی ۔ پیام عشق میں یوں کلام کرتےہیں ۔<br />
سن اے طلب گار درد پہلو! ميں ناز ہوں ، تو نياز ہو جا<br />
ميں غزنوی سومنات دل کا ، تو سراپا اياز ہو جا<br />
نہيں ہے وابستہ زير گردوں کمال شان سکندری سے<br />
تمام ساماں ہے تيرے سينے ميں ، تو بھی آئينہ ساز ہو جا<br />
غرض ہے پيکار زندگی سے کمال پائے ہلال تيرا<br />
جہاں کا فرض قديم ہے تو ، ادا مثال نماز ہو جا</p>
<p>زمانہ دیکھے گا میں ان کا رنگ جدا نظر آتا ہے ۔دل کی کیفیت میں طوفان ہیں جس کی نشاندہی وہ اپنی خموشی سے کرتے ہیں ۔<br />
زمانہ ديکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا<br />
مری خموشی نہيں ہے ، گويا مزار ہے حرف آرزو کا<br />
کوئی دل ايسا نظر نہ آيا نہ جس ميں خوابيدہ ہو تمنا<br />
الہی تيرا جہان کيا ہے نگار خانہ ہے آرزو کا</p>
<p>مغربی تہذیب کی ناپائیداری کے ادراک کے بعداقبال اسلامی نظریہ فکر کی جانب راغب ہوئے۔اسی تغیر فکر نے ان کے اندر ملتِ اسلامیہ کی خدمت کا جذبہ بیدار کیا۔ اس جذبے کی عکاسی ان کی نظم ”شیخ عبدالقادر کے نام “ میں ہوتی ہے۔ جہاں وہ لکھتے ہیں۔<br />
اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق ِ خاور پر<br />
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیں<br />
شمع کی طرح جئیں بزم گہ عالم میں<br />
خود جلیں دیدہ اغیار کو بینا کر دیں</p>
<p>شاعری کا تیسرا دور 1908 تا 1923<br />
علامہ صاحب کے شاعری کے تیسرے دور میں گورا راج نے 1911 میں ہندوؤں کی مخالفت کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے تقسیم بنگال کو منسوخ کر دیا ۔ پھر 1913 میں مسجد شہید گنج کانپور کا واقعہ بہت اہمیت کا حامل تھا ۔ جس نے مسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کی تحریک میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کرنے کی طرف پہلا قدم بنا دیا ۔ اور 1914 میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا ۔ جس میں ملت اسلامیہ کے مرکز خلافت عثمانیہ ترکی نے جرمنی اور جاپان کے ساتھ شامل ہوکر دنیا کی اتحادے ممالک کے خلاف صف آرا ہوا ۔برطانوی حکومت کے زیر اثر ہندوستان بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ سلطنت عثمانیہ ترکی کے خلاف جنگ میں شامل ہوا ۔ مسلمان جسے اپنا اسلامی مرکز سمجھتے تھے وہ اس سے پہلے ہی یورپ کے مرد بیمار کا مقام پا چکا تھا ۔اس جنگ کی وجہ سے آخری سانسوں پہ چلا گیا ۔مسلمان ترکی سے دلی وابستگی رکھتے تھے ۔اور اس جنگ میں ترکی کا کردار اتنا اہم نہیں تھا مگر انجام بہت اہم تھا ۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر جس طرح ترکی کے حصے بخرے کر کے بندر بانٹ کی گئی ۔ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے درد اور اذیت کا باعث تھی ۔اور اس جنگ کے خاتمے کے بعد ہی ہندوستان کے اندر انتہا پسند تنظیموں کا اثر ورسوخ بڑھتا چلا گیا ۔جو مسلمانوں سے مفاہمت کی بجائے مخاصمت کی روش پر عمل پیرا تھیں ۔سیاسی جماعتیں سیاسی داؤ پیچ سے اس مسئلے کے حل میں کوشاں تھیں ۔<br />
علامہ اقبال اپنی اس فکر کو اشعار کی زبان میں مجلسوں میں بیان کرتے ۔ اور قوم کے اندر نئی و ولولہ کو پیدا کرنے کی تحریک بنے ۔ ۔شعور کی بیداری اور تحریکوں کے آغاز نے قوم میں جو نئی روح پھونکی ۔ تو قومیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرتی چلی گئیں ۔ جوں جوں منزل قریب آتی گئی فاصلے بڑھتے چلے گئے اور راستے جدا ہوتے چلے گئے ۔<br />
علامہ صاحب کی شاعری میں وہ تمام اثرات جو ان کی دلی کیفیت کے غماز تھے نمایاں نظر آتے ہیں ۔<br />
بلاد اسلامیہ علامہ اقبال کی وہ نظم ہے کہ جس میں انہوں نے نہایت خوبصورت پیرائے میں پرچم اسلامی کی سر بلندی کی داستان بیان کر دی اور ان کا مکہ معظمہ و مدینہ منورہ سمیت اسلام سے عقیدت عشق کا اظہار پڑھنے کے لائق ہے۔<br />
سرزميں دلی کی مسجود دل غم ديدہ ہے<br />
ذرے ذرے ميں لہو اسلاف کا خوابيدہ ہے<br />
پاک اس اجڑے گلستاں کی نہ ہو کيونکر زميں<br />
خانقاہ عظمت اسلام ہے يہ سرزميں<br />
ہے زمين قرطبہ بھی ديدہء مسلم کا نور<br />
ظلمت مغرب ميں جو روشن تھی مثل شمع طور</p>
<p>مسلم ثقافت و تہذیب کی بدولت عالم دنیا میں عَلم اسلام کی سر بلندی کا ذکر بار بار کرتے ہیں اور گورستان شاہی میں بادشاہت کے متعلق ان کا انداز کلام کیا خوب ہے۔<br />
خواب گہ شاہوں کی ہے يہ منزل حسرت فزا<br />
ديدہء عبرت! خراج اشک گلگوں کر ادا<br />
ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا يہ رہ گزر<br />
چشم کوہ نور نے ديکھے ہيں کتنے تاجور<br />
اس نشاط آباد ميں گو عيش بے اندازہ ہے<br />
ايک غم ، يعنی غم ملت ہميشہ تازہ ہے<br />
دہر کو ديتے ہيں موتی ديدہء گرياں کے ہم<br />
آخری بادل ہيں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہم<br />
ہيں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش ميں<br />
برق ابھی باقی ہے اس کے سينہء خاموش ميں</p>
<p>علامہ اقبال نے اپنی ابتدائی شاعری میں ترانہء ہندی لکھا تھا مگر برصغیر کی بدلتی سیاسی صورتحال میں ان کی شاعری میں مسلم قومیت کا رنگ نمایاں ہوتا چلا گیا ۔ جب وہ 1908 میں یورپ سے لوٹے تو ہندوستان میں تقسیم بنگال کو لے کر ہندوؤں نے واویلہ مچارکھا تھا کیونکہ مسلم اکثریتی مشرقی بنگال ( موجودہ :بنگلہ دیش) صوبہ بننے سے مسلم ترقی اور اکثریتی صوبہ ہندو سے برداشت نہیں ہو رہاتھا ۔ اور آخر کار گورا حکومت نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے اور 1911 میں تنسیخ تقسیم بنگال ہو گئی ۔ پھر ان کا رحجان شاعری میں ہندوستان کے ساتھ مسلمان کی طرف بہت نمایاں نظر آتا ہے ۔ جیسے ان کا یہ ترانہ ملی ملاحظہ فرمائیں ۔</p>
<p>چين و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا<br />
مسلم ہيں ہم ، وطن ہے سارا جہاں ہمارا<br />
توحيد کی امانت سينوں ميں ہے ہمارے<br />
آساں نہيں مٹانا نام و نشاں ہمارا</p>
<p>یہ وہ دور ہے جب ان کی شاعری میں انسانیت ناطے اشعار کے کہنے کا مزاج بدل چکا تھا ۔ہندوستان کومسلم اسلاف کا امین قرار دیتے تھے ۔ان کے نزدیک بادشاہت کے خاتمے سے ہندوستان فتح ہوا تھا مسلمان نہیں ۔ اسی فکر کو انہوں نے جگانے کی کوشش کی ۔ جو بار بار اشعار کی صورت میں مسلم قوم میں اس جزبہ کو پیدا کرنے کا سبب ہو ئی۔مثلا ان کے کلام وطنيت (يعنی وطن بحيثيت ايک سياسی تصور کے( میں ان کا اسلوب بیان قومیت کی تعریف یوں کرتا ہے ۔<br />
گفتار سياست ميں وطن اور ہی کچھ ہے<br />
ارشاد نبوت ميں وطن اور ہی کچھ ہے<br />
اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسی سے<br />
تسخير ہے مقصود تجارت تو اسی سے<br />
خالی ہے صداقت سے سياست تو اسی سے<br />
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے<br />
اقوام ميں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے<br />
قوميت اسلام کے جڑ کٹتی ہے اس سے</p>
<p>مسلمان قوم جس مشکل کا شکار تھی ۔طاقت کا توازن بگڑنے سے حاکم محکومی کے اس مقام پر جا پہنچے جہاں انہیں معاشی ومعاشرتی نا ہموار سماج کے ساتھ ساتھ غم روزگار کے بھی لالے تھے ۔ کئی دہاہیوں سے انہیں انگریزی تعلیم کے حصول کی طرف راغب کیا جارہا تھا ۔ انگریز بہادر کے ساتھ ساتھ ہندو صدیاں محکومی کا بدلہ انگریز کے کندھوں پر چڑھ کر مسلمانو ں سے لینا چاہتے تھے ۔ علامہ اقبال کا شکوہ بھی آرزدہ دل مسلمان کی پکار تھی ۔<br />
کيوں زياں کار بنوں ، سود فراموش رہوں<br />
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں<br />
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں<br />
ہم نوا ميں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں<br />
ہے بجا شيوہء تسليم ميں مشہور ہيں ہم<br />
قصہ درد سناتے ہيں کہ مجبور ہيں ہم<br />
اے خدا! شکوہء ارباب وفا بھی سن لے<br />
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے<br />
تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قديم<br />
پھول تھا زيب چمن پر نہ پريشاں تھی شميم</p>
<p>جسٹس جاوید اقبال اپنی کتاب میں والد محترم کے متعلق لکھتے ہیں کہ علامہ صاحب جب واپس لوٹے تو انہیں ابتدا میں یورپ میں گزارے گئے اپنے دن یاد آتے رہے ۔جدید تعلیم سے آراستہ شاعری میں کہنہ مشق اقبال اس وقت کی سیاست کے لئے انتہائی موضوع اوصاف کے مالک تھے ۔مگر پرواز کی رغبت نہیں تھی تو خود کو کچھ اس انداز میں نصيحت فرماتے ہیں ۔<br />
ميں نے اقبال سے از راہ نصيحت يہ کہا<br />
عامل روزہ ہے تو اور نہ پابند نماز<br />
تو بھی ہے شيوہ ارباب ريا ميں کامل<br />
دل ميں لندن کی ہوس ، لب پہ ترے ذکر حجاز<br />
جتنے اوصاف ہيں ليڈر کے ، وہ ہيں تجھ ميں سبھی<br />
تجھ کو لازم ہے کہ ہو اٹھ کے شريک تگ و تاز<br />
غم صياد نہيں ، اور پر و بال بھی ہيں<br />
پھر سبب کيا ہے ، نہيں تجھ کو دماغ پرواز</p>
<p>مسلمان نوجوان جس دور سے گزر رہے تھے وہ انہیں جدید دنیا سے روشناس کرانے میں ایک اہم سمت چل رہا تھا ۔مشینی ترقی سے معاشرتی قدریں اکثر کمزور پڑ جاتی ہیں ۔اور یہی اس دور کا خاصہ تھا کہ نوجوانوں میں حقوق آزادی کی اُمنگ کی بجائے عیش ترنگ کی کیفیت طاری تھی ۔ جسے جنجھوڑنے کی ضرورت تھی ۔ علامہ صاحب نے خطاب بہ جوانان اسلام میں اسی پیغام کو باور کروایا ۔<br />
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کيا تو نے<br />
وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا<br />
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت ميں<br />
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں ميں تاج سر دارا<br />
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہيں سکتی<br />
کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سےارا<br />
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے ميراث پائی تھی<br />
ثريا سے زميں پر آسماں نے ہم کو دے مارا</p>
<p>اس کے باوجود کہ حالات مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں تھے وہ مسلمانوں کے استقلال و نیت خلوص پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے کلام مسلم (جون1912ء( میں ایسے اظہار کیا ۔<br />
آشکارا ہيں مری آنکھوں پہ اسرار حيات<br />
کہہ نہيں سکتے مجھے نوميد پيکار حيات<br />
کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے<br />
ہے بھروسا اپنی ملت کے مقدر پر مجھے</p>
<p>شکوہ لکھنے پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے جواب شکوہ لکھ کر تمام نقادوں ، معترضین کو لا جواب کر دیا کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔</p>
<p>دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے<br />
پر نہيں’ طاقت پرواز مگر رکھتی ہے<br />
ہم تو مائل بہ کرم ہيں’ کوئی سائل ہی نہيں<br />
راہ دکھلائيں کسے’ رہر و منزل ہی نہيں<br />
تربيت عام تو ہے’ جوہر قابل ہی نہيں<br />
جس سے تعمير ہو آدم کی’ يہ وہ گل ہی نہيں<br />
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی ديتے ہيں<br />
ڈھونڈنے والوں کو دنيا بھی نئی ديتے ہيں</p>
<p>1911 میں تنسیخ بنگال نے مسلمانوں میں انتہائی مایوسی پیدا کر دی تھی ۔ انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا تھا ۔ ایک طاقت کا شاہسوار تو ایک کوڑا تھا ۔ مسلمان بیچارگی کی تصویر بنا اچھے مستقبل کی امید بھی کھوتا جا رہا تھا ۔ایسے میں علامہ صاحب کا یہ کلام نوید صبح (1912ء) حوصلہ و ہمت بندھانے کی نوید تھا ۔</p>
<p>آتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحر<br />
منزل ہستی سے کر جاتی ہے خاموشی سفر<br />
محفل قدرت کا آخر ٹوٹ جاتا ہے سکوت<br />
ديتی ہے ہر چيز اپنی زندگانی کا ثبوت<br />
چہچاتے ہيں پرندے پا کے پيغام حيات<br />
باندھتے ہيں پھول بھی گلشن ميں احرام حيات<br />
مسلم خوابيدہ اٹھ ، ہنگامہ آرا تو بھی ہو<br />
وہ چمک اٹھا افق ، گرم تقاضا تو بھی ہو</p>
<p>صرف قوم کوخوابیدگی سے اُ ٹھانے پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے لئے دعا بھی نکلتی ان کے دل سے ۔<br />
يا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے<br />
جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے<br />
پھر وادي فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے<br />
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے</p>
<p>مغربی دنیا کے زیر اثرنوجوان مسلمان اپنی ثقافت و تہذیب بھی بھولتے جارہے تھے۔ قوم کی قسمت کا فیصلہ نئی نسل کے ہاتھ میں تھا جنہوں نے قیادت کی ذمہ داری کندھوں پر اُٹھانی تھی اور وہی نئی تہذیب کی رعنائی کے دلدادہ ہوتے جارہے تھے وہ اپنے کلام تہذيب حاضر میں اسی نقطہ کو واضح کرتے ہیں ۔<br />
نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبيعت نے<br />
يہ رعنائی، يہ بيداری ، يہ آزادی ، يہ بے باکی<br />
تغير آگيا ايسا تدبر ميں، تخيل ميں<br />
ہنسی سمجھی گئی گلشن ميں غنچوں کی جگر چاکی</p>
<p>علامہ اقبال مسلمانوں کو ان کے مذہب پر کاربند رہنے کو ان کی بحیثیت ملی تشخص قائم رکھنے کی بندش سمجھتے تھے ۔ مسلمانوں کا طرز حیات جدا ہے اور اسے چھوڑنے سے سارے ناطے رشتے مذہب کادھاگہ کھلنے سے ملت کےموتی بکھرنے کی مثل ہو جاتا ہے ۔ اسی پیغام کو انہوں نے اپنے کلام مذہب میں یوں بیان کیا ۔</p>
<p>اپنی ملت پر قياس اقوام مغرب سے نہ کر<br />
خاص ہے ترکيب ميں قوم رسول ہاشمی<br />
دامن ديں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعيت کہاں<br />
اور جمعيت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی</p>
<p>اور پھر انہیں اس امید کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ اگر وہ مذہب سے بیگانہ نہ ہوں تو ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں چھوٹا ۔اس کے باوجود کہ قوم اپنا ماضی کھو چکی ہے۔لیکن انہیں اس بات سے غرض نہیں ہونی چاہیئے کہ انہوں نے زوال کا تاریک دور دیکھا ۔ بلکہ انہیں ملت میں پرو کر رہنا ہو گا ۔اور نئی زندگی کی صبح کا انتظار کرنا ہو گا ۔</p>
<p>ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے<br />
کچھ واسطہ نہيں ہے اسے برگ و بار سے<br />
ملت کے ساتھ رابطہء استوار رکھ<br />
پيوستہ رہ شجر سے ، اميد بہار رکھ!</p>
<p>علامہ صاحب کا یہ شعر!<br />
نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھی<br />
اپنے سينے ميں اسے اور ذرا تھام ابھی<br />
کبھی کبھار ایسے موقع پر پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے جہاں کسی کو یہ باور کروانا ہو کہ جناب ابھی صبر رکھیں ۔ آپ اس قابل نہیں کہ پرواز کر سکیں ابھی آپ میں مقابلہ کا دم نہیں ۔ لیکن جب میں نے اس شعر کو پورے مفہوم کے ساتھ پڑھا تو علامہ صاحب کا عشق حقیقی ابھر کر آنکھوں کے سامنے آ گیا ۔ایسے ہی نقادوں کے لئے یہ اگلا شعر!<br />
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت انديش ہو عقل<br />
عشق ہو مصلحت انديش تو ہے خام ابھی<br />
کہیں پھر کوئی نقاد نہ آ دھمکے کہ چیلنج ہو گیا اور علامہ صاحب کو جو میں خراج تحسین پیش کر رہا ہوں وہ بحث میں بدل جائے تو واپس موضوع کی طرف آتے ہیں اور ان اشعار کو پڑھتے ہیں ۔<br />
نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھی<br />
اپنے سينے ميں اسے اور ذرا تھام ابھی<br />
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت انديش ہو عقل<br />
عشق ہو مصلحت انديش تو ہے خام ابھی<br />
بے خطر کود پڑا آتش نمردو ميں عشق<br />
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی</p>
<p>اسی طرح علامہ صاحب کا یہ شعر بھی زبان زد عام ہے اور کسی پر طنز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔خاص کر اگر کبھی کوئی اچھا کام کی نیت کرے تو کہا جاتا ہے ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کيا ملے گا نماز ميں<br />
لیکن اگر پڑھتے جائیں تو انسان خود پڑھنے پڑ جاتا ہے کہ علامہ صاحب بہت بڑی بات کتنی آسانی سے کیسے کہہ گئے ۔ کہ پڑھتے جائیں تو مفہوم کیا سے کیا ہو جاتا ہے ۔<br />
کبھی اے حقيقت منتظر نظر لباس مجاز ميں<br />
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہيں مری جبين نياز ميں<br />
نہ کہيں جہاں ميں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی<br />
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز ميں<br />
نہ وہ عشق ميں رہيں گرمياں،نہ وہ حسن ميں رہيں شوخياں<br />
نہ وہ غزنوی ميں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف اياز ميں<br />
جو ميں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زميں سے آنے لگی صدا<br />
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کيا ملے گا نماز ميں</p>
<p>عقل میں تعبیر و تنقید تو دل سے عشق کا معاملہ قرار دیا جاتا ہے لیکن عشق حقیقی میں اظہار سے زیادہ اعمال کی بنیاد پر روح عمل سے آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے جسے علامہ صاحب کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں ۔<br />
گرچہ تو زندانی اسباب ہے<br />
قلب کو ليکن ذرا آزاد رکھ<br />
عقل کو تنقيد سے فرصت نہيں<br />
عشق پر اعمال کی بنياد رکھ</p>


<p>No related posts.</p>
<p>Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.</p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://amjid.urdunama.org/2010/11/%da%a9%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%a7%d8%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا(احمد فراز)</title>
		<link>http://amjid.urdunama.org/2010/11/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d9%82%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%d8%a7%da%ba-%d9%86%db%81-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%af%d8%a7%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af/</link>
		<comments>http://amjid.urdunama.org/2010/11/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d9%82%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%d8%a7%da%ba-%d9%86%db%81-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%af%d8%a7%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 24 Nov 2010 17:13:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://amjid.urdunama.org/?p=1170</guid>
		<description><![CDATA[میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گااردو شاعری کی عہد ساز شخصیت احمد فراز کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سال ہوگئے ہیں مگر ان کی مقبولیت اور شہرت میں فرق نہیں آیا۔ ان کا کلام آج بھی عوام اور خواص میں پذیرائی کی رفعتوں کو چھو رہا ہے۔ 1931ء میں کوہاٹ میں پیدا [...]


No related posts.

Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://pak.net/wp-content/uploads/2010/10/01-300x225.jpg" alt="" /></p>
<p>میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گااردو شاعری کی عہد ساز شخصیت احمد فراز کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سال ہوگئے ہیں مگر ان کی مقبولیت اور شہرت میں فرق نہیں آیا۔ ان کا کلام آج بھی عوام اور خواص میں پذیرائی کی رفعتوں کو چھو رہا ہے۔</p>
<p>1931ء میں کوہاٹ میں پیدا ہونے والے سید احمد شاہ نے اوائل عمری سے ہی لفظوں کے ساتھ طبع آزمائی کی اور پھر بہت جلد دنیائے سخن نے احمد فراز کے روپ اس نوجوان شاعر کو ہردلعزیز ہوتے دیکھا۔<br />
فراز کی شاعری میں جہاں غم جاناں کا ذکر تمام تر لطافتوں سے ملتا ہے وہیں غم دوراں کے قصے بھی اپنی پوری تلخی کے ساتھ لفظوں میں ڈھلے ملتے ہیں۔<br />
سیاسی وسماجی زبوں حالی ہو کہ آمریت کا سیاہ دور،معاشرتی ناہمواریاں ہوں کہ ناانصافی کا کرب ان سبھی موضوعات کو عام فہم انداز میں شاعری کا روپ دینا فراز کے اسلوب کا اہم جزرہا۔<br />
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے<br />
اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا<br />
جبھی تو لُوچ کماں کا ،زبان تیر کی ہے<br />
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں<br />
یقین ہے مجھے<br />
کہ یہ حصارِستم کوئی تو گرائے گا<br />
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم<br />
میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا۔<br />
نوجوان نسل کے مقبول شاعر سید وصی شاہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور معاشرتی وسماجی ناانصافیوں کے بارے میں لکھے جانے والے اشعار بہت جلد نعروں کا روپ دھار لیتے ہیں اور بہت بلند آہنگ ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات ان پر نثر کا گمان ہونے لگتا ہے لیکن احمد فراز کے ہاں اس حوالے سے لکھے گئے اشعار اپنی نغمگی کو پوری کاٹ کے ساتھ برقرار رکھتے ہیں۔<br />
وصی کہتے ہیں کہ فراز اپنے اسلوب میں یکتاہیں اور فی زمانہ ان کے بقول کسی شاعر کو اس اسلوب کے قریب تر کہنا تھوڑا مشکل ہے لیکن شعر کہنے والے بلاشبہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔<br />
فراز کا انتقال 25اگست 2008ء کو اسلام آباد میں ہوا ۔ ان کا یہ شعر تاریخ کے بدترین سیلاب میں گھری پاکستانی قوم کے لیے آج بھی مشعل راہ ہے۔<br />
شکوہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا<br />
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے</p>
<p>بشکریہ پاک نیٹ</p>


<p>No related posts.</p>
<p>Related posts brought to you by <a href='http://mitcho.com/code/yarpp/'>Yet Another Related Posts Plugin</a>.</p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://amjid.urdunama.org/2010/11/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d9%82%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%d8%a7%da%ba-%d9%86%db%81-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%af%d8%a7%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

