|
سونی سونی ڈگر اجڑا اجڑا چمن
بن ترے یہ نہ مہکے گا مشک ختن ٹوٹ کر جیسے گر جائے گا یہ گگن میری ماں تو ہے جنت میں مست ومگن کیسے تجھ کو کہوں پھر سے آجا یہاں میری ماں ، میری ماں ، میری ماں ، میری ماں یہ تو ممکن نہیں بھول جاؤں تجھے رات دن فکر ہے کیسے پاؤں تجھے دل میں کیا ہے تمنا بتاؤں تجھے اپنے اللہ سے مانگ لاؤں تجھے |
محفوظات برائے زمرہ »اُردو شاعری «
السلام علیکم
پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں بہیمانہ ظلم کا شکار ہونے والے دو معصوم بھائیوں کے نام ایک منظوم کاوش آپ سب کی بصارتوں کی نظر
راجہ اکرام الحق
کل کی بات ہے میرے وطن میں
دو معصوم سے پیارے بچے
ماں کی آنکھ کے تارے بچے
باپ کے راج دلارے بچے
اک ایسے گروہ کے ہاتھ لگے جو
دکھتے تھے انسانوں جیسے
پر خوں آشام درندے تھے
نام تھے ان کے مسلم سے پر
ابلیس کے وہ کارندے تھے
کچھ تھے ان میں اپنے محافظ
ہے جن کا کام تحفظ کرنا
مظلوموں کی داد رسی اور
ظلم کے سر پر پتھر رکھنا
لیکن کل اس ارض وطن نے
اہل زمیں اور چشم فلک نے
ایسا ایک نظارہ دیکھا
ظلم کی جس میں جیت ہوئی اور
انسانیت کو ہارا دیکھا
اس ظالم سفاک گروہ نے
ان کو گھیرے رکھا تھا
اس ڈر سے کہ بھاگ نہ جائیں
پاؤں سے باندھ کے رکھا تھا
ڈنڈے گھونسے لاتیں پتھر
پھینک ریے تھے سارے ان پر
لوگ تماشا دیکھ رہے تھے
اک دوجے سے آگے بڑھ کر
کوئی بھی نہ تھا سننے والا
ان معصوم سی آہوں کو
نہ ہی کوئی تھا روکنے والا
ظلم کی بڑھتی بانہوں کو
کب تک سہتے ظلم و تشدد
یہ دونوں مظلوم بے چارے
دوہی تھے معصوم سے ‘ ڈاکو’
اورسارے ‘منصف’ مارنے والے
آخر کار وہ پیارے بچے
اس دنیا سے روٹھ گئے
اک چھوٹی معصوم بہن کی
خوشیوں کے گھروندے پھوٹ گئے
محبت ایک دعا ہے
تم مجھے بس یہ دعا دینا
خطا کوئی جو ہو جائے
کبھی لہجہ بدل جائے
ضروری بات رہ جائے
میرا چہرا بدل جائے
اگر پہچان نہ پاؤں
تمہیں گر جان نہ پاؤں
دعا دینا
محبت ایک دعا ہے
تم مجھے بس یہ دعا دینا
ستارے توڑ نہ پاؤں
تمہارے کام نہ آؤں
توازن جو نہ رہ پائے
نظربندی نظر آئے
اشارہ ہو شرارت کا
کوئی دھوکا بصارت کا
دعا دینا
محبت ایک دعا ہے
تم مجھے بس یہ دعا دینا
میں تم سے کہہ نہیں پایا
تمہارے نام کا سایہ
میرے ہمراہ رہتا ہے
مجھے ہر پل یہ کہتا ہے
کوئی مشکل جو در آئے
تصور میرا دھندلائے
دعا دینا
محبت ایک دعا ہے
تم مجھے بس یہ دعا دینا
ہجر کی بد دعا نہ ھو جانا
دیکھ لینا، سزانہ ھو جانا
موڑ تو بے شمار آئیں گے
تھک نہ جانا،جدا نہ ھو جانا
عشق کی انتہا نہیں ھوتی
عشق کی انتہا نہ ھو جانا
آخر شب اداس چاند کے ساتھ
اک بجھتا دیا نہ ھو جانا
بے ارادہ سفر پے نکلے ھو
راستوں کی ھوانہ ھو جانا
ذندگی درد سے عبارت ھے
ذندگی سے خفا نہ ھو جانا
اک تمہیں کو خدا سے مانگا ھے
تم کہیں بے وفا نہ ھو جانا
نوشی گیلانی
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتوں*کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں*کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی
جب کھلی تیری راہوں میں شامِ ستم
ہم چلے آئے ،لائے جہاں تک قدم
لب پہ حرفِ غزل ، دل میں قندیلِ غم
اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں*میں مارے گئے
نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی
تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی
کس کاشکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہجر کی قتل گاہوں سے سب جاملے
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کرچلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں*مارے گئے
