محفوظات برائے لکھاری

ممتاز علی قادری کا فعل

آج میں نے فیس بُک کھولی تو اِس لِنک پر ناموسِ رِسالت صلی اللہُ علیہِ پر بحث چل رہی تھی اِ س پر میں نے یہ جواب دِیا۔
محترمہ مجھے آپ کے اوپر موجود تمام بیانات پڑھ کر آپ پر افسوس بالکل نہیں ہوا ہے بلکہ مجھے افسوس ہوا ہے تو ان والدین پر جنہوں نے آپ کی پرورش تو بہت اچھے طریقے سے کی لیکن افسوس انہوں نے آپ کی دینی تربیت پر بالکل بھی توجہ نہیں دی اگر… انہوں نے ذرا بھی توجہ دی ہوتی تو یہ سب آج آپ نا کہتی۔
آئیے ! دیکھتے ہیں خود نبی انے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے والوں سے کیا سلوک کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے توہین رسالت پر کیا رویہ اختیار کیا، تابعین اور آئمہ نے کیا ردعمل ظاہر کیا اور گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سلوک کیا۔ فقہاء نے گستاخوں کے لیے کیا احکامات دےئے ۔ اس بارے میں ائمہ سلف کے فتاویٰ بھی پڑھیے پھر فیصلہ فرمائیے کہ ان حالات میں آج عالم اسلام کی کیا ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں۔۔۔

کمپیوٹر ٹپس


احمد فراز…شاعری سے ایس ایم ایس تک !!!

انگریزی زبان کے عظیم ادیب چارلس ڈکنس نے اپنی مشہور ناول ’’ٹیل آف ٹو سٹیز‘‘ کی ابتدا کچھ اس طرح کی ہے کہ:
’’وہ وقت بہت بہترین تھا؛ وہ وقت بہت بدترین تھا؛وہ دور داناہی کا تھا؛ وہ دور نادانی کا تھا؛ وہ عہد یقین تھا؛ وہ بے یقینی کا عرصہ تھا؛ وہ روشنی کا موسم تھا؛ وہ تاریکی کا موسم تھا؛وہ امید کا موسم بہار؛ وہ مایوسی کا موسم خزاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
ایسی ہی کیفیت فیض کے اس نظم میں بھی ہے؛ جس میں اس نے بتایا ہے کہ :
’’یہ دھوپ کنارہ شام ڈھلے
ملتے ہیں دونوں وقت جہاں‘‘

مزید پڑھیں۔۔۔

کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں

تحریر : محمودالحق

انسانی زندگی کے ادوار قوس و قزح کے رنگوں کی مانند ترتیب میں ایک کے بعد ایک دوسرا رنگ دکھاتا ہے ۔زندگی کی ترتیب بھی قوس و قزح کے رنگو ں کی طرح بدلتی نہیں ۔ بچپن ، لڑکپن ، ادھیڑ پن اور بڑھاپا۔ ہر انسان میں زندگی کے ادوار اسی ترتیب میں ہیں ۔ ہر رنگ کی اپنی جاذبیت اور خوبصورتی رکھتا ۔ بڑھاپا جوانی میں اچھا نہیں لگتا ۔ تو جوانی میں بچپنا بھی اچھا نہیں لگتا ۔ وقت سے پہلے شعور کا ادراک بے باک پن دیتا ہے ۔کھانا دیگوں میں تیار ، پلیٹ میں کھایا تو پانی سے بہایا جاتا ہے ۔دودھ کے دانت ٹوٹ جائیں تو نئے طاقت بھر لاتے ہیں ۔اگر طاقت کے ٹوٹ جائیں تو کمزوری میں چھپاتے ہیں ۔ زندگی میں رنگ رلیاں ہیں مگر رنگ رلیوں میں زندگی کے رنگ نہیں ۔انسان کے ادوار سوچ کی تبدیلی کی صورت میں نمایا ں ہوتے ہیں ۔ جو اس کی زندگی کو الگ زاوئے سے دکھاتے ہیں ۔زندگی میں سوچ میں پیدا ہوتے کیونکر کے سوال رفتہ رفتہ بدلتے جاتے ہیں ۔ جو ں جوں حالات بدلتے ہیں ایک نیا کیونکر پھر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے ۔سالوں ایک سوال کے جواب پانے میں گزر جاتے ہیں ۔
علامہ محمد اقبال کی زندگی کے ادوار ان کی شاعری کے ادوار سے منسلک نظر آتے ہیں ۔سیاسی اور معاشرتی ادوار میں تغیر و تبدل سے ان کے افکار میں بھی یہ رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔

مزید پڑھیں۔۔۔

میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا(احمد فراز)

میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گااردو شاعری کی عہد ساز شخصیت احمد فراز کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سال ہوگئے ہیں مگر ان کی مقبولیت اور شہرت میں فرق نہیں آیا۔ ان کا کلام آج بھی عوام اور خواص میں پذیرائی کی رفعتوں کو چھو رہا ہے۔

1931ء میں کوہاٹ میں پیدا ہونے والے سید احمد شاہ نے اوائل عمری سے ہی لفظوں کے ساتھ طبع آزمائی کی اور پھر بہت جلد دنیائے سخن نے احمد فراز کے روپ اس نوجوان شاعر کو ہردلعزیز ہوتے دیکھا۔
فراز کی شاعری میں جہاں غم جاناں کا ذکر تمام تر لطافتوں سے ملتا ہے وہیں غم دوراں کے قصے بھی اپنی پوری تلخی کے ساتھ لفظوں میں ڈھلے ملتے ہیں۔
سیاسی وسماجی زبوں حالی ہو کہ آمریت کا سیاہ دور،معاشرتی ناہمواریاں ہوں کہ ناانصافی کا کرب ان سبھی موضوعات کو عام فہم انداز میں شاعری کا روپ دینا فراز کے اسلوب کا اہم جزرہا۔
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
جبھی تو لُوچ کماں کا ،زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں
یقین ہے مجھے
کہ یہ حصارِستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا۔
نوجوان نسل کے مقبول شاعر سید وصی شاہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور معاشرتی وسماجی ناانصافیوں کے بارے میں لکھے جانے والے اشعار بہت جلد نعروں کا روپ دھار لیتے ہیں اور بہت بلند آہنگ ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات ان پر نثر کا گمان ہونے لگتا ہے لیکن احمد فراز کے ہاں اس حوالے سے لکھے گئے اشعار اپنی نغمگی کو پوری کاٹ کے ساتھ برقرار رکھتے ہیں۔
وصی کہتے ہیں کہ فراز اپنے اسلوب میں یکتاہیں اور فی زمانہ ان کے بقول کسی شاعر کو اس اسلوب کے قریب تر کہنا تھوڑا مشکل ہے لیکن شعر کہنے والے بلاشبہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
فراز کا انتقال 25اگست 2008ء کو اسلام آباد میں ہوا ۔ ان کا یہ شعر تاریخ کے بدترین سیلاب میں گھری پاکستانی قوم کے لیے آج بھی مشعل راہ ہے۔
شکوہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

بشکریہ پاک نیٹ