آج میں نے فیس بُک کھولی تو اِس لِنک پر ناموسِ رِسالت صلی اللہُ علیہِ پر بحث چل رہی تھی اِ س پر میں نے یہ جواب دِیا۔
محترمہ مجھے آپ کے اوپر موجود تمام بیانات پڑھ کر آپ پر افسوس بالکل نہیں ہوا ہے بلکہ مجھے افسوس ہوا ہے تو ان والدین پر جنہوں نے آپ کی پرورش تو بہت اچھے طریقے سے کی لیکن افسوس انہوں نے آپ کی دینی تربیت پر بالکل بھی توجہ نہیں دی اگر… انہوں نے ذرا بھی توجہ دی ہوتی تو یہ سب آج آپ نا کہتی۔
آئیے ! دیکھتے ہیں خود نبی انے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے والوں سے کیا سلوک کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے توہین رسالت پر کیا رویہ اختیار کیا، تابعین اور آئمہ نے کیا ردعمل ظاہر کیا اور گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سلوک کیا۔ فقہاء نے گستاخوں کے لیے کیا احکامات دےئے ۔ اس بارے میں ائمہ سلف کے فتاویٰ بھی پڑھیے پھر فیصلہ فرمائیے کہ ان حالات میں آج عالم اسلام کی کیا ذمہ داری ہے۔
جیسا کہ قرآن خود بیان کرتا ہے کہ ”جو نفرت ان کافروں کی زبانوں سے ظاہر ہے وہ تو تم کو معلوم ہے او ر جو بغض ان کے سینوں میں چھپا ہے وہ بہت زیادہ ہے“ ۔یہود و نصاریٰ شروع دن سے ہی شانِ اقدس ا میں نازیبا کلمات کہتے چلے آرہے ہیں ۔ کبھی یہودیہ عورتوں نے آپ ا کو گالیاں دیں۔ کبھی کافر مردوں نے گستاخانہ قصیدے کہے۔ کبھی آپ اکی ہجو میں اشعارپڑھے اور کبھی نازیباکلمات کہے۔(اُس زمانے میں شاعری کا دور دورہ تھا ، کسی کی ہجو کے لیے قصیدہ کہا جاتا تھا، آج کافروں نے توہین کا انداز بدل دیا ہے اور فلموں کارٹونوں کے ذریعے مذاق اڑایا جاتا ہے۔) تو نبی انے شان ِ نبوت میں گستاخی کرنے والے بعض مردوں اور عورتوں کو بعض مواقع پر قتل کروایا۔ کبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دے کر اور کبھی پورے پروگرام کے ساتھ روانہ کرکے۔ کبھی کسی صحابی نے حُبِ رسول امیں خود گستاخِ نبی کے جگر کو چیر دیا اور کبھی عزم کر لیا کہ خود زندہ رہوں گا یا گستاخِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کبھی نذر مان لی کہ فلاں گستاخ کو ضرور قتل کروں گا ۔ جو گستاخ مسلمانوں کی تلوار سے بچے رہے، انہیں اللہ جل شانہ نے عذابوں میں مبتلا کیا ۔ رسوائیوں کا شکار رہے ۔ قبر نے اپنے اندر رکھنے کے بجائے باہر پھینک دیا کہ عبرت کا نمونہ بن جائے۔
”اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو ان کفر کے پیشواوئں کے ساتھ جنگ کرو۔“ (التوبہ، ۱۲)
حافظ ابنِ کثیر اس آیت کے ضمن میں واضح حکم لگاتے ہیں: ” جو آنحضرت اکی شان میں بدگوئی کرے ، کوئی طعن یا عیب لگائے ، وہ قتل کیا جائے گا“۔ (تفسیر ابنِ کثیر، ج۲، ص۳۷)
عصما بنت مروان کا قتل (۲۵رمضان سن ۲ہجری)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خطمہ قبیلے کی ایک عورت نے ہجو کی ۔نبی انے فرمایا کہ اس عورت سے کون نبٹے گا۔ عمیر بن عدی نے جا کر اسے قتل کر دیا تو نبی ا نے فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں یعنی اس عورت کا خون رائیگان ہے اور اس میں کوئی دو آپس میں نہ ٹکرائیں۔ (الصارم المسلول۔ ۱۲۹)
بعض مورخین نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے عصما بنت مروان بنی عمیر بن زید کے خاندان سے تھی ،وہ یزید بن زید بن حصن الخطیمی کی بیوی تھی، یہ رسول ا کو ایذاء اور تکلیف دیا کرتی تھی ۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی اکے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی۔ عمیر بن عدی الخطمی ، جن کی آنکھیں اس قدر کمزور تھیں کہ جہاد میں نہیں جا سکتے تھے ۔ ان کو جب اس عورت کی باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا تو کہنے لگے کہ اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول ا کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کردوں گا۔ رسول ا اس وقت بدر میں تھے۔ جب آپ ا غزوہ بدر سے تشریف لائے تو عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے تو اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے۔ ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ عمیررضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اس عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیررضی اللہ عنہ نے بچے کو اس سے الگ کر دیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اس زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہوگئی ۔پھر نماز ِ فجر رسول ا کے ساتھ ادا کی۔ جب نبی ا نماز سے فارغ ہوئے تو عمیررضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے؟ کہنے لگے :جی ہاں! میرے ماں باپ آپ ا پر قربان ہوں ،اے اللہ کے رسول ا۔ عمیررضی اللہ عنہ کو اس بات سے ذرا ڈر سا لگا کہ کہیں میں نے رسول اللہا کی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا۔ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ا! کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے؟ فرمایا کہ دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں ۔پس یہ کلمہ رسول اللہ ا سے پہلی مرتبہ سنا گیا۔ عمیررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ا نے اپنے اردگرد دیکھا تو فرمایا تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو، جس نے اللہ اور اس کے رسول ا کی غیبی مدد کی ہے، تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:” لو یہنابیناتو ہم سے بازی لے گیا، اس نے ساری رات عبادت میں گزاری۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ﷺنے فرمایا : اسے نابینا نہ کہو،یہ بینا ہے۔ (الصارم المسلول ،ص۱۳۰)
ابو عفک یہودی کا قتل (شوال ۲ہجری)
ابن تیمیہ مورخین کے حوالے سے شاتمِ رسول ابو عفک یہودی کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ بنی عمرو بن عوف کا ایک شیخ جسے ابو عفک کہتے تھے، وہ ۱۲۰ سال کا بوڑھا آدمی تھا۔جس وقت رسول ا مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ بوڑھا لوگوں کو آپ اکی عداوت پر بھڑکاتا تھا اور مسلمان نہیں ہوا تھا، جس وقت رسول اللہ ا بدر کی طرف نکلے اور غزوئہ بدر میں آپ اکو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی تو اس شخص نے حسد کرنا شروع کردیا اور بغاوت اور سرکشی پر اتر آیا ۔ رسول ا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مذمت میں ہجو کرتے ہوئے ایک قصیدہ کہا ۔اس قصیدے کو سن کر عاشقِ رسول ا سالم بن عمیررضی اللہ عنہ کی وہی حالت ہوئی جو ایک عاشق رسول کی ہونی چاہئے اور انھوں نے نذر مانی کہ میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے خود جان دے دوں گا۔ پس رسول اکی اجازت کی ضرورت تھی، جو مل گئی۔ سالم رضی اللہ عنہ موقع کی تلاش میں تھے، موسمِ گرما کی ایک رات ابو عفک قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سویا ہوا تھا۔ سالم بن عمیررضی اللہ عنہ اس کی طرف آئے اور اس کے جگر پر تلوار رکھ دی، جس سے وہ بستر پر چیخنے لگا مگر اس مردود کا کام تمام کردیا۔ (الصارم المسلول ،ص ۱۳۸)
انس بن زنیم الدیلمی کی گستاخی
انس بن زنیم الدیلمی نے رسول اللہا کی ہجو کی۔ اس کو قبیلہ خذاعیہ کے ایک بچے نے سن لیا، اس نے انس پر حملہ کردیا۔ انس نے اپنا زخم اپنی قوم کو آکر دکھایا ۔ واقدی نے لکھا ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی ”قبیلہ خزاعیہ“ کے چالیس سواروں کو لے کر رسول اللہ اکے پاس مدد طلب کرنے گیا ۔انھوں نے آکر اس واقعہ کا تذکرہ کیا جو انھیں پیش آیا تھا۔ جب قافلے والے فارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: یا رسول اللہا!انس بن زنیم الدیلمی نے آپ کی ہجو کی ہے تو رسول ا نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ ( الصارم المسلول، ص۱۳۹)
ایک گستاخِ رسول عورت
ایک عورت رسول ا کو گالیاں دیا کرتی تھی ۔ آپ ا نے فرمایا:
”من یکفینی عدوی“
میری دشمن کی خبر کون لے گا؟ تو خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے اس عورت کو قتل کردیا ۔ (الصارم المسلول،ص ۱۶۳)
مشرک گستاخ رسول اکا قتل
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول ا کو گالی دی تو رسول ا نے فرمایا: میرے اس دشمن کی خبر کون لے گا تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اورعرض کرنے لگے: یا رسول اللہ ا میں حاضر ہوں ۔ حضرت زبیررضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا تو رسول ا نے اس کا سامان حضرت زبیررضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ (الصارم المسلول،ص ۱۷۷
اب ذرا آتے ہیں اس بات کی طرف کہ سلمان تاثیر کیوں واجب القتل تھا۔ تو محترمہ جتنا مجرم گستاخِ رسول ہے اتنا ہی قصوروار اس کا حمایتی بھی ہے، سلمان تاثیر نے نا صرف آسیہ کی حمایت کی بلکہ اس نے تو اس قانون کو بھی کالا قرار دے دیا، اگر قانون کے تحت کچھ لوگ غلط فائدہ اٹھا رہےہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ قانون کالا ہے اور گستاخِ رسول کو کھلا چھوڑ دیا جانا چاہئے، اگر قانون میں سقم ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غلطی ہے نا کہ اس گستاخ کے لئے کوئی حمایت کا پہلو۔
امریکا بہادر اور اس کے حواری اس سے پریشان ہیں کہ اگر اس ملک میں حدود آرڈی نینس باقی اور موٴثر رہا تو زناکاری اور بدکاری کا جنازہ نکل جائے گا ،اور جس معاشرہ میں زناکاری و بدکاری نہ ہوگی، وہ کثرتِ اموات، کثرت ِامراض، معاشی تنگ دستی اور جنگ و …جدل سے بچ کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا، اس لئے پاکستانی معاشرہ اور پاکستانی مسلمانوں کو اس غلاظت کی دلدل میں دھکیلنے کے لئے سب سے پہلے حدود آرڈی نینس کے خلاف اربوں ڈالر کے مصارف سے” کچھ سوچئے“ کی میڈیائی مہم چلائی گئی اور پوری قوم کو ذہنی طور پر حدود آرڈی نینس کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا گیا، زنا بالجبر اور زنا بالرضا کی غلیظ ابحاث اٹھائی گئیں، خواتین کو مظلوم باور کرایا گیا، اور حدود آرڈی نینس، جو زنا کے سدباب کی ایک ادنیٰ سی کوشش تھی، اس کو ظلم و تشدد باور کرایا گیا، تاآنکہ حدود آرڈی نینس کو کالعدم قرار دینے کے لئے متبادل حقوق نسواں بل لاکر زنا کاری کو تحفظ فراہم کیا گیا، صرف یہی نہیں بلکہ ایسے جوڑے جو بدکاری و زناکاری کے مرتکب تھے، انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے بیرون ملک شہریت دے کر اس گھناؤنے جرم اور مجرمین کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
اس کے بعد ان کا اگلا ہدف توہین رسالت آرڈی نینس تھا، جو ایسے بدنہاد اور موذیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا، جو اپنے آقاوٴں کے اشاروں پر مقدس شخصیات اور خصوصاً آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھونکتے تھے۔ بلاشبہ قانون توہین رسالت حضرات انبیأ کرام اورمقدس شخصیات کے خلاف بھونکنے والی ایسی زبانوں کو روکنے بلکہ انہیں لگام دینے کا موٴثر ہتھیار تھا۔
لہٰذا اس قانون کو غیر موٴثر بنانے کی خاطر جان بوجھ کر ایسے موذیوں کودریدہ دہنی پرآمادہ کیاجانے لگا اور جہاں کہیں ایسے بدنہاد اور موذی، اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات کے خلاف دریدہ دہنی کے مرتکب ہوئے اور مسلمانوں نے ان کے خلاف احتجاج کیا، پیشگی طے شدہ منصوبے کے تحت اس کو فساد کی شکل دی گئی اور باقاعدہ قتل وغارت اورجلاوٴ گھراوٴ کے ذریعے میدان کارزار اور جنگ و جدل کا بازار گرم کیا گیا، دنگا فساد برپا کرنے کے لئے جانبین پر حملے کرائے گئے، چنانچہ ان موذیوں اور گستاخوں کی صفوں میں گھس کر مسلمانوں کو اور مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر ان موذیوں کو مارا گیا، ان کو زخمی کیا گیا، ان کو قتل کیا گیا، بلکہ ہر دو جانب سے فائرنگ کا ڈھونگ رچاکر مسلمانوں کو ظالم اور اعدائے اسلام کو مظلوم باور کراتے ہوئے اس کو قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کے کھاتے میں ڈالاگیا، اور اپنے زر خریدغلاموں کے ذریعے پُرزور مطالبے اور بیان دلائے گئے کہ چونکہ یہ سب کچھ قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کی وجہ سے ہوا ہے ،لہٰذا قانون توہین رسالت کوختم ہونا چاہئے۔
اور اب تو نوبت بایں جارسید کہ اگر کوئی اللہ کا بندہ ان باغیانِ رسالت اور موذیوں کی دریدہ دہنی کے خلاف زبان کھولے تو اس کی جان و مال اور عزت و آبرو کے لالے پڑجاتے ہیں، دیکھا جائے تو یہ سب کچھ اس سازش اور مہم کا حصہ ہے جس میں طے کیا جا چکاہے کہ یہ قانون ہر حال میں ختم ہونا چاہئے۔چنانچہ پاکستان بھرمیں جہاں جہاں عیسائی مسلم اورقادیانی مسلم فسادات کی خبریں آرہی ہیں،ان کے پیچھے یہی سازش کارفرماہے۔
No related posts.
Related posts brought to you by Yet Another Related Posts Plugin.

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ماشاء اللہ اچھا لکھا ہے۔۔۔ اللہ تعالی مزید برکت اور ہمت عطا فرمائے۔۔۔۔۔ بس عنوان میں کمپوزنگ کی غلطی ہے کہ لفظ فیل نہیں فعل ہے۔۔۔۔
شکریہ۔ والسلام
درست کروانے کا بہت شکریہ۔
سبحان اللہ . . .بہت بہتریں . .
اللہ آپ کے قلم میں اور نکھار لاوے . . . آمین
نورمحمد کے بلاگ سے آخری تحریر۔۔۔ معمار حرم