محفوظات برائے » 2010 «

کیک رس سے بچوں کیلئے سویٹ ڈش بنائیں۔

کیک رس سے بچوں کیلئے سویٹ ڈش بنائیں۔

کیک رس ایک کلو
کریم دو پیکٹ
کافی ایک چمچ
چینی حسب ذائقہ
چاکلیٹ دو ڈیری ملک یا کوئی بھی چورا کر کے

کریم میں پسی ہوئی چینی ملا کر پھینٹ لیں۔
کافی کھولتے ہوئے پانی میں پھینٹ کرتھوڑی چینی دال کرایک کپ تیار کر لیں
ایک چوکور گہری ڈش لے لیں۔ کیک رس کافی میں ڈبو ڈبو کراس میں بچھا دیں۔ پہلی تہ لگ جائے تو آدھی کریم اس پر ہموار تہہ کے انداز میں انڈیل دیں پھر دوسری تہہ لگائیں اوراس پر باقی کریم انڈیل دیں۔ اب چاکلیٹ کا چورا اس پر پھیلا دیں۔ اب اسے فرج میں رکھ دیں۔ آدھے گھنٹے تک یہ ایک کیک کی طرح بن جاتا ہے۔ بیحد مزیدار چیز ہے اور بچے تو اس کے دیوانے ہو جاتے ہیں۔سب سے اچھی بات یہ کہ بہت جلدی تیار ہوتی ہے ۔ یعنی شارٹ نوٹس دعوتوں کیلئے موزوں ہے۔آدھا گھنٹہ فرج میں رکھنا بہتر ہے ورنہ ایمرجنسی سرو ہو جائے تو بھی ہرج نہیں۔

ٹانگوں والا سانپ دریافت!


پاکستان میں بھی ایسے دو ٹانگوں والے سانپ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ان سانپوں کو پاکستان میں عزت و حقارت دونوں قسم کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگ ان سانپوں سے بیکوقت ڈرتے بھی ہیں اور ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے بھی ہیں۔ یہ سانپ عموماً ہمارے ہر طرف پائے جاتے ہیں لیکن عام حالات میں انکی پہچان کرنا آسان نہیں۔ تاہم ہر کُچھ عرصہ بعد ان سانپوں کی شناخت بہت آسان ہو جاتی ہے۔ ہر دو سے پانچ سال کے درمیان یہ سانپ عوام کے درمیان انسانی شکل میں آ جاتے ہیں اور ان میں گھُل مل جاتے ہیں، ان سے پیار محبت کی باتیں کرتے ہیں، ان سے وعدے وعید کرتے ہیں، عوام کی ہر بُری بھلی بات کو سُنتے اور برداشت کرتے ہیں اور مسکراتے ہیں۔

 

مزید پڑھیں۔۔۔

ٹماٹر کی کہانی

ایک بے روزگار شخص نے دفتری کی حیثیت سے مائیکروسافٹ میں درخواست دی ۔ ایچ آر مینیجر نے اس کا انٹر ویو کیا اور پھر اس سے فرش کی صفائی کروا کر اس کا ٹیسٹ لیا ۔ تمہیں ملازمت دی جاتی ہے ، اپنا ای میل ایڈریس دے دو تا کہ تمہیں اطلاع دی جا سکے کہ تم نے نوکری پر کب حاضر ہونا ہے ایچ آر مینیجر نے کہا ۔ آدمی نے جواب دیا کہ جناب نہ تو میرے پاس کمپیوٹر ہے اور نہ ہی ای میل ایڈریس ۔ مجھے افسوس ہے ایچ آر مینیجرنے کہا ، اگر تمہارا ای میل کا پتہ نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ تم وجود ہی نہیں رکھتے اور ناموجود بندے کو ہم ملازمت کیسے دے سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں۔۔۔

تحمید (ربنا لک الحمد وغیرہ) کے مسائل

احادیث مبارکہ میں ایسے بہت سے اذکار موجود ہیں جنہیں تسمیع یعنی سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه کہنے کے بعد پڑھا جا سکتا ہے۔ اصطلاح میں انہیں تحمید کہا جاتا ہے۔نمازی کو اختیار ہے چاہے تو ان میں سے کسی ایک کو ایک بارپڑھنے کے بعد رکوع کر لے اور چاہے تو ایک سے زیادہ بار پڑھنے کے بعد رکوع میں جائے۔ ایک سے زیادہ اذکار کو ملا کر پڑھنا بھی جائز ہے۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱۔ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
(صحیح البخاری کتاب الأذان باب اقامۃ الصف من تمام الصلاۃ)
۲۔ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
(صحیح البخاری کتاب الأذان باب انما جعل الأمام لیوتم بہ)
۳۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
(صحیح البخاری کتاب الأذان باب انما فضل اللھم ربنا لک الحمد)
۴۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
(صحیح البخاری کتاب الأذان باب ما یقول الأمام و من خلفہ اذا رفع رأسہ من الرکوع)
۵۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
(صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب ما یقول اذا رفع رأسہ من الرکوع)
۶۔اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
(صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا باب الدعاء فی صلاۃ اللیل و قیامہ)
۷۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
(صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب ما یقول اذا رفع رأسہ من الرکوع)
۸۔ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
(صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب ما یقول اذا رفع رأسہ من الرکوع)
۹۔ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ
(صحیح البخاری کتاب الأذان باب فضل اللھم ربنالک الحمد)
۱۰۔ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ
(سنن أبی داؤد کتاب االصلاۃ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ، صحیح و ضعیف سنن أبی داؤد حدیث نمبر ۸۷۴)
ایک ضروری وضاحت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز پڑھاتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ بلند آواز سے کہتے تھے جس کی وجہ سے صحابہ کرام اس سنت سے بخوبی واقف تھے اور صلوا کما رأیتمونی أصلی (اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو) کے عمومی حکم پر عمل کرتے ہوئے وہ بھی رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ کہا کرتے تھے لیکن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کے بعد آپ آہستہ آواز میں کیا پڑھتے ہیں اس لیے امت کو اس کی خبر دیتے ہوئےفرمایا:
إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
(صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب التسمیع و التحمید و التأمین)
جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو کیونکہ (اس وقت) جس کا قول فرشتوں کے قول سے مل گیا اس کے پچھلے (صغیرہ) گناہ معاف کر دیے جائیں گے
اس حدیث سے کچھ علماء کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ امام صرف سمع اللہ لمن حمدہ اور مقتدی صرف ربنا لک الحمد کہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ امام اور مقتدی دونوں کو یہ کلمات پڑھنے چاہئیں۔ حدیث کے درست مفہوم کی طرف ہم نے اشارہ کر دیا ہے۔

آخر ثا بت ہوگیا کہ ہر درد کی دوا محبت

2010 : اکتوبر-14
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ درد کم کرنے کی سب سے زیادہ طاقتور دوا’ محبت ‘ہے۔تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ محبوبہ کی تصویر ہی اس کے عاشق کے دماغ کے اس مخصوص حصے کو متحرک کرسکتی ہے جو دوا کے طور پر عمل کرتا ہے اورمحبت کسی بھی ممکنہ اثرات کے بغیر درد کو کم کرنے میں فوری کام کرتی ہے۔امریکی اخبار’لاس اینجلس ٹائمز‘ کے مطابق جلد یا بدیر محبت کا انجام ہمیشہ دکھ اور درد پر ہی ہوتا ہے لیکن اس محبت میں کچھ راحت کا پہلو بھی ہے اور خاص کر جسمانی نکتہ نظر سے اس کا فائدہ بھی ہے۔ امریکی جریدے میں شائع محبت پر ایک تحقیقی اور نفسیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ذہنی انتشار کے شکار فرد کے سامنے محبوب کی تصویر اس کے درد کو کم کردیتی ہے اورتصویر نظروں کے سامنے آنے سے اس کے دماغ کے ایک خاص حصے کے فنکشن کرنے سے 36سے45فی صد درد میں کمی ہوجاتی ہے۔اس عمل کے دوران سائنس دانوں نے دماغ کا مطالعہ کیا تو اس میں ایسا عمل ہوتا دیکھا گیا جو اس درد کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوا۔