انگریزی زبان کے عظیم ادیب چارلس ڈکنس نے اپنی مشہور ناول ’’ٹیل آف ٹو سٹیز‘‘ کی ابتدا کچھ اس طرح کی ہے کہ:
’’وہ وقت بہت بہترین تھا؛ وہ وقت بہت بدترین تھا؛وہ دور داناہی کا تھا؛ وہ دور نادانی کا تھا؛ وہ عہد یقین تھا؛ وہ بے یقینی کا عرصہ تھا؛ وہ روشنی کا موسم تھا؛ وہ تاریکی کا موسم تھا؛وہ امید کا موسم بہار؛ وہ مایوسی کا موسم خزاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
ایسی ہی کیفیت فیض کے اس نظم میں بھی ہے؛ جس میں اس نے بتایا ہے کہ :
’’یہ دھوپ کنارہ شام ڈھلے
ملتے ہیں دونوں وقت جہاں‘‘
محفوظات برائے » نومبر 25th, 2010«
تحریر : محمودالحق
انسانی زندگی کے ادوار قوس و قزح کے رنگوں کی مانند ترتیب میں ایک کے بعد ایک دوسرا رنگ دکھاتا ہے ۔زندگی کی ترتیب بھی قوس و قزح کے رنگو ں کی طرح بدلتی نہیں ۔ بچپن ، لڑکپن ، ادھیڑ پن اور بڑھاپا۔ ہر انسان میں زندگی کے ادوار اسی ترتیب میں ہیں ۔ ہر رنگ کی اپنی جاذبیت اور خوبصورتی رکھتا ۔ بڑھاپا جوانی میں اچھا نہیں لگتا ۔ تو جوانی میں بچپنا بھی اچھا نہیں لگتا ۔ وقت سے پہلے شعور کا ادراک بے باک پن دیتا ہے ۔کھانا دیگوں میں تیار ، پلیٹ میں کھایا تو پانی سے بہایا جاتا ہے ۔دودھ کے دانت ٹوٹ جائیں تو نئے طاقت بھر لاتے ہیں ۔اگر طاقت کے ٹوٹ جائیں تو کمزوری میں چھپاتے ہیں ۔ زندگی میں رنگ رلیاں ہیں مگر رنگ رلیوں میں زندگی کے رنگ نہیں ۔انسان کے ادوار سوچ کی تبدیلی کی صورت میں نمایا ں ہوتے ہیں ۔ جو اس کی زندگی کو الگ زاوئے سے دکھاتے ہیں ۔زندگی میں سوچ میں پیدا ہوتے کیونکر کے سوال رفتہ رفتہ بدلتے جاتے ہیں ۔ جو ں جوں حالات بدلتے ہیں ایک نیا کیونکر پھر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے ۔سالوں ایک سوال کے جواب پانے میں گزر جاتے ہیں ۔
علامہ محمد اقبال کی زندگی کے ادوار ان کی شاعری کے ادوار سے منسلک نظر آتے ہیں ۔سیاسی اور معاشرتی ادوار میں تغیر و تبدل سے ان کے افکار میں بھی یہ رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔
