امریکہ میں نابینا افراد کی بینائی واپس لانے کے لیے ان کی آنکھ میں انسانی سٹیم سیل یعنی بنیادی خلیے داخل کرنے کے تجربہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں پر سٹیم سیلز کے بارے میں بنیادی معلومات سوال و جواب کی شکل میں دی جا رہی ہیں۔

سٹیم سیلز کیا ہیں؟
کسی جسم میں موجود زیادہ تر بالغ خلیوں کا ایک مخصوص مقصد ہوتا ہے جسے تبدیل نہیں کیا سکتا۔ مثلاً جگر کا ایک خلیہ مخصوص کام کرنے کے لیے بنتا ہے اور اسے فوری طور پر دل کے خلیے کا کام نہیں لیا جا سکتا۔
سٹیم سیلز ان سے مختلف خلیے ہوتے ہیں۔ وہ افزائش کے ابتدائی مرحلے میں ہوتے ہیں اور ان میں مختلف قسم کے خلیوں کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
یہ اتنے کارآمد کیوں ہیں؟
جب ایک سٹیم سیل تقسیم ہوتا ہے تو ہر نئے خلیے میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یا تو وہ سٹیم سیل کی شکل میں قائم رہے یا ایک ایسا خلیہ بن جائے جو کوئی مخصوص کام سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس صلاحیت پر قابو پا کر سٹیم سیلز یا بنیادی خلیوں کو انسانی جسم کی ’مرمت کے سازوسامان‘ کی شکل دی جا سکتی ہے۔ان کے مطابق ان سٹیم سیلز کو ایسی تندرست بافتیں تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو ایسی بافتوں کی جگہ لیں گی جو بیماری سے متاثر ہوئی ہوں۔
سائنسدانوں کے مطابق وہ بیماریاں جن کا علاج سٹیم سیل کی مدد سے ہو سکتا ہے ان میں پارکنسن، الزائمر، دل کی بیماری، آرتھرائٹس اور ریڑھ کی ہڈیوں کی تکالیف شامل ہیں۔
سٹیم سیلز کو تجرباتی ادویات کے نتائج جاننے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر تحقیق سے یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ انسانی جسم میں ٹشوز یا بافتیں کیسے بنتے ہیں اور کیسے بیماریاں انسانی جسم پر غلبہ حاصل کرتی ہیں۔
کیا سٹیم سیلز کی مختلف اقسام ہیں؟
ہاں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ سب سے کارآمد سٹیم سیل ایمبریوز کی بافتوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا کثیر بارآور ہونا ہے۔ ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ انسانی جسم کے کسی بھی خلیے کا روپ دھار سکتے ہیں۔
سٹیم سیل انسانی اعضاء میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ ایسے خلیے ہوتے ہیں جن کا کوئی مخصوص کام نہیں ہوتا اور انہیں اسی عضو میں کسی اور مخصوص کام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ان کا کام اس عضو میں پیدا ہونے والی خرابی کو صحیح کر کے اسے تندرست رکھنا ہوتا ہے۔
کیا سٹیم سیلز کا استعمال متنازعہ ہے؟
جی ہاں۔ ان کے استعمال کی بڑے پیمانے پر مخالفت ہوئی ہے۔
یہ سیل تجربہ گاہ میں تیار کیے جانے والے ایسے ایمبریوز سے لیے جاتے ہیں جن کی عمر چار سے پانچ دن ہوتی ہے۔ ان کے استعمال کے مخالفین کے مطابق تمام ایمبریوز چاہے وہ قدرتی طریقے سے بنیں یا انہیں تجربہ گاہ میں تیار کیا جائے، ان میں انسانی شکل میں ڈھلنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لیے ان پر تجربات کرنا اخلاقی طور پر صحیح نہیں۔
یہ گروپ بالغ بافتوں سے لیے گئے سٹیم سیلز کے استعمال کے حامی ہیں۔
کیا ان کے استعمال میں کوئی خدشات ہیں؟
ہاں۔ کچھ محققین کو خدشہ ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ سٹیم سیل کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں جبکہ کچھ کے خیال میں ان میں موجود بیماریاں علاج کروانے والے شخص کو منتقل ہو سکتی ہیں۔
No related posts.
Related posts brought to you by Yet Another Related Posts Plugin.
