محفوظات برائے » اکتوبر, 2010 «

قرآن پاک ان مائکروسافٹ ورڈ


قرآن پاک ان ورڈ
مائکروسافٹ ورڈ 2007اور 2010 کیلئے قرآن پاک اور اردو ٹرانسلیشن آٹومیٹیکلی انسرٹ کرنے کیلئے بنایا گیا ایک ایڈانز ہے ،امید ہے ایم ایس ورڈ استمال کرنے والوں‌کو اسے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں‌ہوگی
اس میں اس وقت تک تین قرآنی سکرپٹ اور چھ اردو تراجم (جو کہ ذکر کی سائٹ سے مجھے ملے ) وہ ڈال چکا ہوں۔
استمال میں بہت آسان ہے ، پہلے قرآن یا ٹرانسلیشن منتخب کر لیں ،پھر کوئی سی بھی سورت سیلکٹ کریں اور اس کی آیات کا آغاز اور اختتام سیلکٹ کرلیں۔اور کے بعد فونٹ سیلکشن ہے ، سب سے پہلے تو جب قرآنی سکرپٹ منتخب ہو گا تو اس کے متعلقہ فونٹ سب سے پہلے نظر آرہے ہوں گے اور اس کے بعد آپ کو کمپیوٹر میں جتنے فونٹ انسٹال ہیں وہ نظر آرہے ہوں گے ، قرآنی متن تو اسی فونٹ میں سیلکٹ کریں جو کہ ڈیفالٹ دیے گئے ہیں ورنہ متن خراب ہونے کا اندیشہ ہے ۔
تراجم کیلئے آپ اپنی مرضی کا فونٹ سیلکٹ کرسکتے ہیں۔
اس کے نیچے چیک باکسز ہیں
پہلا اگر آپ کو ٹیکسٹ فارمیٹنگ کے ساتھ چاہیے تو ۔
دوسرا اگر آپ ٹیکسٹ سے پہلے بسم اللہ ڈالنا چاہتے ہیں۔
تیسرااگر آپ سب سے پہلے تعوذ ڈالنا چاہتے ہیں ۔لیکن یہ صرف قرآنی متن کےساتھ کام کرے گا ۔تراجم کے ساتھ نہیں ۔
چوتھا اگر آپ ہر آیت الگ الگ لائن میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اور پانچواں اگر آپ یہ چاہتے ہوں کہ یہ ایڈان جب بھی ورڈ کھولیں تو یہ بھی ساتھ ہی کھل جائے تو ورنہ اسے ڈی سیلکٹ کردیں ۔اور جب ضرورت ہو ایڈان میں سے کلک کر کے چلالیں۔
اس کے بعد تین بٹن ہیں ۔
پہلا کاپی کرنے کا یعنی اس کو کلک کریں گے تو آپ کا ٹیکسٹ کلپ بورڈ پر کاپی ہوجائے گا ،اس کے بعد جہاں چاہیں پیسٹ کرلیں
دوسرا انسرٹ کا اس کو کلک کرنے سے آپ کا ٹیکسٹ ورڈ کے ڈاکومنٹ میں جہاں آپ کا کرسر ہوگا انسرٹ ہوجائے گا۔
تیسرا مور سپیسفیک کا بٹن ہے اسے کلک کرنے سے ایک نیا فارم کھل جائے گا اور آپ کا منتخب کیاہوا ٹیکسٹ وہاں موجود ہو گا اور اگر آپ چاہیں تو اس میں سے اپنی مرضی کا کوئی ساحصہ رائٹ کلک کرکے یا کنٹرول سی سے کاپی کر کے کہیں بھی پیسٹ کرسکتے ہیں۔
اس کی انسٹالیشن کیلئے عام طور پر نیٹ کا ہونا ضروری ہے ،کیونکہ یہ اپنی ضرورت کی فائلز نیٹ سے ڈاؤنلوڈ کرنے کے بعد ہی انسٹال ہوگا۔لوکل ورژن 200 ایم بی سے زیادہ ہے اسے پھر کسی وقت اپلوڈ کر دوں گا تاکہ اگر کوئی لوکلی انسٹال کرنا چاہے تو اس کیلئے بھی ممکن ہو۔

پاک نیٹ سے اِقتباس

محبت رسول ایمان میں سے ہے

 

محبت رسول ایمان میں سے ہے

الحبّ اور المحبّة“یہ دونوں الفاظ ایسے معنی کواداکرتے ہیں جس کا تعلق قلب سے ہے ، جودوسری صفات کے مقابلہ میں اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے ، اور اپنی تاثیر کے اعتبارسے سب سے زیادہ عظیم ہے ، کیونکہ اس میں دل کا میلان اور محبوب کی طرف کھچاؤ پایا جاتا ہے ،اور وہ انسان کی طبیعت میں ایسا شعور اورسلوک کا جذبہ پید ا کردیتا ہے کہ کبھی یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیتاہے ، بلکہ اپنے محبوب کی محبت میں وہ اپنے آپ سے بھی بیگانہ ہوجاتا ہے اور اپنی صفات چھوڑ کر محبوب کی صفات اختیار کرلیتاہے ۔

بے شک اللہ تعالی جو رب العالمین ہیں اور سب کے خالق ہیں وہ ہر قسم کی محبت اور عظیم ترمحبت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ،کیونکہ وہ اعلیٰ صفاتِ کمال سے متصف ہیں ،جن کی کوئی انتہاء اور کوئی حدنہیں ہے، جن کی نہ کوئی تعداد ہے اور نہ انہیں گِنا جاسکتا ہے ،وہی ہے جو بندوں پر اپنے جود و سخا کے خزانوں سے وہ نعمتیں برساتا ہے جن کا شمار نہیں ہوسکتا ، اور وہ احسانا ت کرتا ہے جن کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔

ارشاد باری ہے :

﴿وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰہِ لَاتُحْصُوْھَا﴾
( ابراہیم:34)
ترجمہ : ۔”اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ان کا شما ر نہیں کرسکتے ۔“
بلکہ بہت ہی کم ان کی نعمتوں کا احاطہ اور شمار کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں لفظ ”لَاتُحْصُوْھَا “ سے اشارہ ملتا ہے ۔
ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم مخلوق میں اس محبت کے سب سے زیادہ مستحق اورحق دار ہیں، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم ہماری ذات سے زیادہ ہماری محبت کے حق دار ہیں۔

ارشاد باری ہے :

﴿ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہُ أمَّہَاتُھُمْ
(الأحزاب:6)
ترجمہ :” نبی سے لگاوٴ ہے ایمان والوں کو زیادہ اپنی جان سے اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں ۔“
تو اس آیت نے بغیر کسی قیدو تحدید کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی کو ہرمسلمان کی ذات پر فوقیت دی ہے،یہ آیت ہرچیزکو شامل ہوگئی ہے ، لہذا اس میں غورو فکر کرو اور خوش ہو جاؤ:

﴿ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہُ أمَّہَاتُھُمْ﴾

محبت کو واجب کرنے والی صفات

جس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حاصل ہوگئی ،وہ اس حقیقت کو نہ صرف یہ کہ جان لے گا ، بلکہ ذوقاً بھی محسوس کر لے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو واجب کرنے والی جتنی بھی صفات ہو سکتی ہیں وہ بدرجہ کمال صرف آپ میں موجود ہیں اورکسی اور مخلوق میں نہیں ،، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کامل صفات کا خلاصہ ائمہ علم و عرفان اور اہل محبت نے دو عظیم حصوں میں تقسیم کیا ہے :
۱: ۔وہ کامل صفات جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم متصف تھے۔
۲:۔آپ کی جود و سخاوت
۔
جہاں تک صفات ِ کمالیہ کا تعلق ہے جن کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان سے محبت کرتا ہے ، مثلاً ایک انسان کبھی دوسرے انسان سے اس کے خوبصورت چہرے کی وجہ سے محبت کرتا ہے یا اس کی خوش الحانی کی وجہ سے یا ایسی دوسری صفات جمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے جو محبت کو واجب کرتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جمال خلقت اور جمال صورت میں تمام مخلوق سے اعلیٰ اور افضل ہیں، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تواتر اور یقینی طریقہ سے ثابت ہے کہ:

” کان رسول ُ الله صلی الله علیہ وسلم أحسن الناس وجہاً وأحسنَہم خَلقاً“۔
ترجمہ :” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب انسانوں میں زیادہ حسین چہرے والے اور سب سے زیادہ خوب صورت جسم والے تھے “۔

حضرت ھند بن ابی ھالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

”کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم فخمًا مفخّماً، یتلأ لأ وجہہ تلألوٴ القمر لیلة البدر“

ترجمہ :”حضور صلی الله علی وسلم اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے بھی عظیم الشان تھے اور دوسروں کی نظروں میں بھی بڑے رتبہ والے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔“

حضرت ابوھریرة رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”مارأیت أحسن من رسول الله صلی الله علیہ وسلم کأنّ الشمس تجری فی وجہہ“۔
ترجمہ :” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ میں نے کسی کو حسین نہیں دیکھا۔ گویا سورج آپ کے چہرہ مبارک میں گردش کررہاہے “۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

”مامَسِسْت دیباجةً ، ولا حریرةً ألین من کفّ رسول الله صلی الله علیہ وسلم، ولا شممت مسکةً ولا عنبرةً أطیب من رائحة النبی صلی الله علیہ وسلم، وفی روایة : أطیب من عرق النبی صلی الله علیہ وسلم“ صلی اللہ علیہ وسلم

ترجمہ :” میں نے کسی موٹے یا باریک ریشم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیاد ہ نرم نہیں پایا ، اورنہ ہی مشک اور عنبر کی خوشبو کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے عمدہ پایا ،اورایک روایت میں ہے کہ نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبودار اورعمدہ پایا “۔

جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان فرمائے ہیں، سب نے یہی کہا:

” لم أر قبلہ ولا بعدہ مثلَہ صلی الله علیہ وسلم “۔

ترجمہ :

” آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیساہم نے نہ آپ سے پہلے کسی کو دیکھا اور نہ آپ کے بعد کسی کو دیکھا “۔

لہٰذا آپ مخلوق کے جمال سے کتنے ہی متاثر ہوں، آپ پر لازم ہے کہ آ پ تمام مخلوق اور اپنے نفس سے بھی زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کے جمال کے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہیں ۔
اسی طرح ایک عقلمند انسان کسی سے محبت اس کے حسن اخلاق اور اعلیٰ سیرت کی بنا پر کرتا ہے ،اگرچہ وہ خوداس سے کتنا ہی دور ہو ۔جبکہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پورے عالم میں سب سے زیادہ اخلاق میں کامل ہیں ، اور جس کے لئے اللہ تعالی کی گواہی کافی ہے :

﴿وَاِنّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾
(سورة القلم :4)

ترجمہ :” بے شک آپ اخلاق کے عظیم مقام پر ہیں “۔

اللہ تعالی کے اس قول ”لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ“میں غور کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جتنے بھی اخلاق حسنہ اور انسان کی صفاتِ کمالیہ ہوسکتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان صفات کے اعلیٰ مقام پرفائز ہیں، کیونکہ ”علٰیٰ“ بلندی پردلالت کرتا ہے ، لہٰذا جس قسم کے بھی اعلیٰ اخلاق ہو سکتے ہیں ،آپ ان اخلاق میں سب سے اعلیٰ و ارفع مقام پرفائز ہیں اور جس قسم کے انسانی کمالات ہو سکتے ہیں ،آپ ان کمالات میں سب سے بلند درجہ پر ہیں۔

رہابہت زیادہ عطااور احسان کی وجہ سے کسی سے محبت کرنا، تو انسان دنیا میں ہراس شخص سے محبت کرتا ہے جس نے اس پر ایک یا دو بار کوئی احسان کیا ہو، اور وہ احسان کتنا ہی زیادہ قیمتی اور نفیس کیوں نہ ہو بالآخروہ فانی اور زائل ہونے والا ہے ، جیسے کسی نے اسے ایسی مصیبت سے بچایا جس میں اس کی ہلاکت یقینی تھی یااس میں کسی نقصان کا خطرہ تھا۔کچھ بھی ہو یہ احسان بالا ٓ خرختم ہونے والا ہے، جس کے لئے دوام نہیں ۔

بھلا دنیوی احسان کا مقابلہ نبی کریم اور رسول عظیم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات سے ہوسکتا ہے جوتما م محاسنِ اخلاق و تکریم کے جامع ہیں ،جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام مکارمِ اخلاق ، عظیم صفات اور فضیلت عامہ سے نوازا۔جن کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں کفر کی تاریکیوں سے نکال کر نورِ ایمان میں داخل کیا ،اور جن کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں جہالت کی آگ سے نجات دے کر یقین اور معرفت کی جنت میں پہنچادیا ۔
خوب اچھی طرح غور و فکر کرلوتاکہ آپ کوبخوبی معلوم ہوجائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آپ کے جنت کی نعمتوں میں ہمیشہ رہنے کا سبب ہیں ، اب خود بتاوٴکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے اس جلیل القدر اور عظیم الفضل احسان سے بڑھ کر کو ن سااحسان ہوسکتا ہے ۔

اب اس احسان کا شکر اور اس کا حق ہم کیسے ادا کریں ؟ جبکہ اللہ تعالی نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے نوازا ہے اور اپنی ظاہر ی وباطنی نعمتوں کی ہم پر بوچھاڑ کردی ہے ، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آپ کی کامل ومکمل محبت کے مستحق ہیں جو ہر ایک کے نفس ،اس کے اہل وعیال اور سب مخلو ق کی محبت سے زیادہ ہو، بلکہ بعض اہل معرفت حضرات نے یہاں تک کہاہے کہ

”اگر جسم کے رویں رویں سے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار ہورہاہوتب بھی آپ صلی اللہ علیہ کا جو حق محبت ہے اس کا یہ جزء ہوگا،کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہرچیز پر فوقیت حاصل ہے”

میری ماں میری ماں

سونی سونی ڈگر اجڑا اجڑا چمن
بن ترے یہ نہ مہکے گا مشک ختن
ٹوٹ کر جیسے گر جائے گا یہ گگن
میری ماں تو ہے جنت میں مست ومگن
کیسے تجھ کو کہوں پھر سے آجا یہاں
میری ماں ، میری ماں ، میری ماں ، میری ماں
یہ تو ممکن نہیں بھول جاؤں تجھے رات دن
فکر ہے کیسے پاؤں تجھے
دل میں کیا ہے تمنا بتاؤں تجھے
اپنے اللہ سے مانگ لاؤں تجھے

اک ماں کی اپنی بیٹی کیلئیے 10 نصیحتیں

 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و بر کاتہ

اک ماں کی اپنی بیٹی کیلئیے 10 نصیحتیں
عرب کی ایک مشہور عالم ،ادیبہ کی دس وصیتیں، جو حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف رحمتہ اللہ علیہ لدھیا نوی صاحب کی کتا ب تحفہ دلہن میں لکھی ہیں۔

1
”میر ی پیا ری بیٹی ،میری آنکھو ں کی ٹھنڈک ،شوہر کے گھر جا کر قناعت والی زندگی گزارنے کا اہتمام کرنا۔ جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا ، جو روکھی سو کھی شو ہر کی خو شی کے ساتھ مل جا ئے وہ اس مر غ پلا ﺅ سے بہتر ہے جو تمہارے اصرار کرنے پر اس نے نا راضگی سے دیا ہو ۔

2
میری پیا ری بیٹی ، اس با ت کا خیال رکھنا کہ اپنے شو ہر کی با ت کو ہمیشہ تو جہ سے سننا اور اسکو اہمیت دینا اور ہر حال میں ان کی بات پر عمل کرنے کی کو شش کرنا اسطر ح تم ان کے دل میں جگہ بنا لو گی کیو نکہ اصل آدمی نہیں آدمی کا کام پیارا ہو تا ہے ۔

دانائی کے پھول

 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و بر کاتہ
سمجھداری کی باتیں/ دانائی کے پھول
 

٭ مومن کی نشانی یہ ہے کہ مصیبت کو ہنس کر قبول کرتا ہے ۔

٭ بدگمانی کشتی کے اندر قطرہ قطرہ رستا ہوا پانی ہے جو آخر کار کشتی کو لے ڈوبتا ہے ۔

٭ آسمان سے نوٹ برسنے کی خواہش کرنے کی بجاۓ یہ خواہش کرو کہ آسمان سے خدا کی رحمت برسے ۔ ۔

٭ کتنے لوگ ہیں جو سمندر کی طرح بولتے ہیں مگر ان کی سوچ گندے جوہڑوں کی طرح محدود ہوتی ہے ۔ اپنی سوچ کو پانی کی طرح صاف شفاف رکھو .

٭ مسکراہٹ سے چہرے پر مزید نکھار پیدا ہوتا ہے ۔

٭ اگر کسی نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہو تو اس کا بدلہ دینے میں دیر مت کرو اور اگر کسی نے برائی کی ہو تو اس کا بدلہ لینے سے پرہیز کرو ۔

٭ علم بغیر عمل ” وبال ” ہے اور عمل بغیر علم ” گمراہی ” ہے ۔

٭پاک صاف دل تو اللہ کا گھر ہے

٭ ہر روز اپنا منہ آئینے میں دیکھا کرو۔ اگر بری صورت ہے تو برا کام نہ کرو ۔ تاکہ دو برائیاں جمع نہ ہوں۔ اگر اچھی صورت ہے تو اس کو برے کام کرکے خراب نہ کرو۔

٭ زیادہ تر عالموں کی محفلوں میں بیٹھا کرو اور دانائوں کی باتوں کو غور سے سنا کرو۔

مزید پڑھیں۔۔۔